بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

فتاوی رشیدیہ میں مذکور فتوی ” ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دینے سے تین طلاقیں واقع ہوتی ہیں ” پر شبہ اور اس کا ازالہ

سوال

مفتی صاحب کیا تین طلاقوں کے بعد رجوع درست ہے ؟جبکہ فتاوی رشیدیہ کے مندرجہ ذیل فتوی میں دو اقوال میں سے قوی قول کے مطابق رجوع درست ہے ۔
” کیا فرماتے ہیں علمائے محققین شریعت بیضاء اس مسئلہ میں کہ طلاق ثلثہ جلسہ واحدہ میں دفعۃً واحدۃ یک لخت کہ یہ عند الشرع ملت بیضاء میں حرام و ممنوع و بدعت ہے اگر کوئی شخص بایں ہیبت دیوے تو رجعت حالت مذکورہ بالا میں حسب احادیث صحیحہ ہو سکتی ہے یا نہیں یا بقاعدہ فقہاء ائمہ احناف رحمہم اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کہ عند الضرورۃ بحسب مذاہب دیگر رجوع کیا جاتا ہے چنانچہ مواقع کثیرہ عدیدہ میں یہ امر مسلم اور جاری ہے خاص کر مسئلہ ہذا میں بھی کذا افتاہ مولانا محمد عبدالحی المرحوم الکھنوی فی مجموعۃ الفتاوی وکذا فی مسک الختام فی شرح بلوغ المرام نقلہ عن الائمۃ الحنفیۃ رحمھم اللہ تعالیٰ بینوا بالحق والصواب تواجروا بیوم الفتح والحساب۔جواب: ایک مجلس میں تین طلاقیں دے کر خاوند رجوع کر سکتا ہے کیونکہ حدیث صحیح ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کے شروع زمانہ خلافت میں یہی دستور تھا چنانچہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث مندرجہ صحیح مسلم کے الفاظ یہ ہیں۔کان الطلاق علٰی عھد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و ابی بکر و سنتین من خلافۃ عمر طلاق الثلاث واحدۃ فقال عمر بن الخطاب ان الناس قد استعجلوا فی امر کانت لہم فیہ اناءۃ فلوا مضیناہ علیہم فامضاہ علیھم۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جو تینو ں کو تین قرار دیا تو یہ حکم ان کا سیاسی تھا شرعی نہ تھا کیونکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو منصب شریعت نہ تھا۔ واللہ اعلم والعلم عنداللہ راقم ابوالوفاء ثناء اللہ کفایت اللہ امرتسری ثناء اللہ محمودی جواب صحیح ابوتراب محمد عبدالحق۔
جمہور کا تو مذہب یہی ہے کہ تین طلاق پڑ جاتی ہیں مگر بعض محققین جن میں بعض صحابہ بعض تابعین بھی شامل ہیں فرماتے ہیں کہ تین نہیں بلکہ ایک ہی طلاق ہوگی ان کی دلیل قوی ہے پہلوں کے ساتھ کثرت رائے ہے۔من اتبع عالما لقی اللہ سالما انشاء اللہ تعالیٰ ابو عبید احمد اللہ عفی عنہ احمد اللہ ابو عبید، محدث امرتسری۔یہ فتویٰ موافق مذہب بعض اہل علم از صحابہ اور تابعین اور محدثین اور فقہاء کے ہے جمہور علماء از صحابہ کرام و تابعین و محدثین و فقہاء اس فتویٰ کے خلاف پر ہیں جمہور کا مذہب اسلم ہے احتیاط کی رو سے اور پہلا مذہب قوی ہے دلیل کی رو سے۔ فقط عبدالجبار عفی عنہ عبدالجبار۔ مجموعہ فتوی جلد د صفحہ ۵۹ مکتوب اسلام استفتاء۔ عبداللہ الغزنوی”۔

جواب

واضح رہے کہ تین طلاقیں ایک مجلس میں دی جائیں یا علیحدہ علیحدہ مجلس میں ،ایک جملے میں دی جائیں یا الگ الگ کئی جملوں میں،بہر صورت بیوی پر تین طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو جاتی ہے؛لہٰذا رجوع کرنا یا نکاح کی تجدید کرنا جائز نہیں ہے جب تک اس عورت کا دوسری جگہ نکاح کر کےتحلیل شرعی نہ ہو جائے۔یہی بات قرآن،حدیث،اجماعِ امت ،چاروں ائمہ اورجمہور فقہائے کرام رحمہم اللہ تعالیٰ سے ثابت ہے ۔فتاوی رشیدیہ کے جس فتوی کی تصویر آپ نے بھیجی ہے یہ مکمل فتوی نہیں ہے، جس کی وجہ سے شُبہ پیدا ہو گیاہے ۔ بلکہ اس جگہ فتاوی رشیدیہ میں جمع کیے گئے مختلف فتاوی کی ترتیب سے یہ بات معلوم ہو رہی ہے کہ دراصل حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں دو فتوے بطور محاکمہ واستفتاء بھیجے گئے تھے ایک مذکورہ فتوی( جوکہ غیر مقلدین علماء کا ہے ) اور دوسرا اسی کے آگے والا فتوی (جو کہ مولانا عبد الحئی لکھنوی رحمۃ اللہ علیہ کا ہے)اس پر حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ نے جمہور کے مذہب کے مطابق ایک مجلس میں دی جانے والی تین طلاقوں کو تین ہی شمار کر کے حرمت مغلظہ کا فتوی دیا ہے ۔ چنانچہ حضرت کے جواب کی تعبیر درج ذیل اقتباس میں ذکر کی جاتی ہے :
“تین طلاقیں اس صورت میں واقع ہو گئیں سوائے حلالہ کے کوئی تدبیر اس کی نہیں “۔ (فتاوی رشیدیہ ،مطبوع :اشاعت اکیڈمی ،ص :۵۷۲)ملحوظہ : مکمل فتوے کی تصویر بھی ساتھ لف ہے ۔ اور فتاوی رشیدیہ کے ہمارے پاس موجود تمام نسخوں میں حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کا جواب اسی طرح ہے ۔ لہٰذا سوال میں مذکورہ جواب کی نسبت حضرت گنگوہی ؒ کی طرف سمجھنا غلط فہمی ہے ۔
[البقرة: 230]
{فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره}
أحكام القرآن للجصاص (2/ 83)
قوله تعالى فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره فحكم بتحريمها عليه بالثالثة بعد الاثنتين ولم يفرق بين إيقاعهما في طهر واحد أو في أطهار.
أحكام القرآن للجصاص (2/ 83)
قوله تعالى الطلاق مرتان فإمساك بمعروف أو تسريح بإحسان الآية يدل على وقوع الثلاث معا مع كونه منهيا عنها .
تفسير الجلالين (ص: 49)
{فإن طلقها} الزوج بعد الثنتين {فلا تحل له من بعد} بعد الطلقة الثالثة {حتى تنكح} تتزوج {زوجا غيره} ويطأها كما في الحديث رواه الشيخان {فإن طلقها} أي الزوج الثاني {فلا جناح عليهما} أي الزوجة والزوج الأول {أن يتراجعا} إلى النكاح بعد انقضاء العدة.
تفسير الجامع لأحكام القرآن (3/ 129)
قال علماؤنا : واتفق أئمة الفتوى على لزوم إيقاع الطلاق الثلاث في كلمة واحدة ، وهو قول جمهور السلف.
صحيح البخاري (7/ 43)
عن عائشة، أن رجلا طلق امرأته ثلاثا، فتزوجت فطلق، فسئل النبي صلى الله عليه وسلم: أتحل للأول؟ قال:لا حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الأول.
صحيح البخاري (7/ 53)
عن ابن شهاب، أن سهل بن سعد الساعدي، أخبره……قال عويمر: كذبت عليها يا رسول الله إن أمسكتها، فطلقها ثلاثا، قبل أن يأمره رسول الله صلى الله عليه وسلم
فتح الباري لابن حجر (9/ 367)
فالتمسك بظاهر قوله طلقها ثلاثا فإنه ظاهر في كونها مجموعة.
سنن أبي داود (2/ 274)
عن سهل بن سعد، في هذا الخبر، قال: فطلقها ثلاث تطليقات عند رسول الله صلى الله عليه وسلم، فأنفذه رسول الله صلى الله عليه وسلم.
سنن النسائي (6/ 142)
عن ابن وهب، قال: أخبرني مخرمة، عن أبيه، قال: سمعت محمود بن لبيد، قال: أخبر رسول الله صلى الله عليه وسلم عن رجل طلق امرأته ثلاث تطليقات جميعا، فقام غضبانا ثم قال: «أيلعب بكتاب الله وأنا بين أظهركم؟» حتى قام رجل وقال: يا رسول الله، ألا أقتله؟
فتح الباري لابن حجر (9/ 363)
فإن فيه التصريح بأن الرجل طلق ثلاثا مجموعة ولم يرده النبي صلى الله عليه وسلم بل أمضاه.
عمدة القاري (20/ 233)
ومذهب جماهير العلماء من التابعين ومن بعدهم منهم: الأوزاعي والنخعي والثوري وأبو حنيفة وأصحابه ومالك وأصحابه ومالك وأصحابه والشافعي وأصحابه وأحمد وأصحابه، وإسحاق وأبو ثور وأبو عبيد وآخرون كثيرون، عل أن من طلق امرأته ثلاثا وقعن، ولكنه يأثم، وقالوا: من خالف فيه فهو شاذ مخالف لأهل السنة، وإنما تعلق به أهل البدع ومن لا يلتفت إليه لشذوذه عن الجماعة التي لا يجوز عليهم التواطؤ على تحريف الكتاب والسنة. وأجاب الطحاوي عن حديث ابن عباس بما ملخصه إنه منسوخ، بيانه أنه لما كان زمن عمر رضي الله تعالى عنه، قال: (يا أيها الناس! قد كان لكم في الطلاق أناة وإنه من تعجل أناة الله في الطلاق ألزمناه إياه) ، رواه الطحاوي بإسناد صحيح وخاطب عمر رضي الله تعالى عنه، بذلك الناس الذين قد علموا ما قد تقدم من ذلك ففي زمن النبي صلى الله عليه وسلم، فلم ينكر عليه منهم منكر ولم يدفعه دافع، فكان ذلك أكبر الحجج في نسخ ما تقدم من ذلك.
الموطأ للإمام مالك برواية محمد بن الحسن الشيباني (ص: 196)
عن محمد بن إياس بن بكير، قال: طلق رجل امرأته ثلاثا قبل أن يدخل بها، ثم بدا له أن ينكحها فجاء يستفتي، قال: فذهبت معه، فسأل أبا هريرة، وابن عباس، فقالا: «لا ينكحها حتى تنكح زوجا غيره» ، فقال: إنما كان طلاقي إياها واحدة، قال ابن عباس: «أرسلت من يدك ما كان لك من فضل» ، قال محمد: وبهذا نأخذ، وهو قول أبي حنيفة، والعامة من فقهائنا، لأنه طلقها ثلاثا جميعا، فوقعن عليها جميعا معا.
التمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد (15/ 70)
فإن طلقها في كل طهر تطليقة أو طلقها ثلاثا مجتمعات في طهر لم يمسها فيه فقد لزمه وليس بمطلق للسنة عند مالك وجمهور أصحابه.
الأم للشافعي (5/ 196)
والقرآن يدل والله أعلم على أن من طلق زوجة له دخل بها أو لم يدخل بها ثلاثا لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره.
مسائل الإمام أحمد رواية ابنه عبد الله (ص: 373)
قال قلت لابي رجل طلق ثلاثا وهو ينوي واحدةقال هي ثلاث…….قال سألت ابي عن المطلقة ثلاثافقال لا تحل لزوجها حتى تنكح زوجا غيره يدخل بها ويطؤها.واللہ اعلم
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس