ایک غلط فہمی کا جواب بھی مطلوب ہے کہ جب میری بیوی 2023ء سے میرے ساتھ نہیں ہے تو بعض افراد یہ سمجھتے ہیں کہ جب میاں بیوی ساتھ نہ رہتے ہوں تو خود بخود طلاق واقع ہو جاتی ہے، یا کچھ لوگوں کا یہ خیال ہے کہ جہیز کا سامان واپس کر دینے سے خلع واقع ہو گئی ہے۔ ان کی دلیل میرا جہیز کا سامان بخوشی واپس کرنا ہے، حالانکہ شرعی طور پر جو عورت خود سے میکے چلی جائے تو کیا وہ ناشزہ کے حکم میں نہیں ہے؟ یعنی کہ وہ بیوی ہوتے ہوئے بھی نان نفقہ کی حقدار نہیں۔ اور جہیز کا سامان تو میں نے اس لیے واپس کیا ہے کہ وہ تو شرعاً عورت کی ہی ملکیت ہوتا ہے۔