بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

میاں بیوی کے طویل عرصہ دور رہنے سے وقوعِ طلاق ،بغیر اجازت میکے جا کر رہنے والی بیوی ناشزہ شمار ہو گی

سوال

ایک غلط فہمی کا جواب بھی مطلوب ہے کہ جب میری بیوی 2023ء سے میرے ساتھ نہیں ہے تو بعض افراد یہ سمجھتے ہیں کہ جب میاں بیوی ساتھ نہ رہتے ہوں تو خود بخود طلاق واقع ہو جاتی ہے، یا کچھ لوگوں کا یہ خیال ہے کہ جہیز کا سامان واپس کر دینے سے خلع واقع ہو گئی ہے۔ ان کی دلیل میرا جہیز کا سامان بخوشی واپس کرنا ہے، حالانکہ شرعی طور پر جو عورت خود سے میکے چلی جائے تو کیا وہ ناشزہ کے حکم میں نہیں ہے؟ یعنی کہ وہ بیوی ہوتے ہوئے بھی نان نفقہ کی حقدار نہیں۔ اور جہیز کا سامان تو میں نے اس لیے واپس کیا ہے کہ وہ تو شرعاً عورت کی ہی ملکیت ہوتا ہے۔

جواب

میاں بیوی کا طویل عرصہ دور رہنے یا شوہر کا باہمی رنجش کی صورت میں بیوی کو جہیز کا سامان واپس کردینے سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔ اگر بیوی شوہر کی رضامندی کے بغیر میکے جا کر رہنے لگ جائے تو وہ شرعاناشزہ(شوہر کی نافرمان) شمار ہوگی اور نان نفقہ کی حقدار نہیں ہوگی ۔
الدر المختار (3/ 575):
(لا) نفقة لأحد عشر: مرتدة، ومقبلة ابنه، ومعتدة موت،ومنكوحة فاسدا وعدته، وأمة لم تبوأ، وصغيرة لا توطأ، و (خارجة من بيته بغير حق) وهي الناشزة حتى تعود. واللہ اعلم
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس