بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

خلوت سے پہلے طلاق دینا

سوال

ایک لڑکا ہے جو افغانستان سے کینیڈا جانا چاہتا تھا، اس کو کینیڈا کی حکومت کی طرف سے کچھ سہولیات حاصل کرنے کے لیے اور وہاں اپنے لئے اس ملک کے قانون کے مطابق آسانیاں پیدا کرنے کے لیے ، وہاں کی کسی شہری لڑکی سے شادی کرنے کا ڈرامہ کرنا تھا، تو اس نے ایک افغانی لڑکی ، جس کو کینیڈا کی شہریت حاصل تھی، کو پیسوں کا وعدہ کر کے کہا کہ آپ مجھ سے نام نہاد شادی کر لو۔ نام نہاد شادی کا مطلب یہ کہ ان کے درمیان کوئی جماع یا کسی اور طرح کا تعلق قائم نہ ہونے پر وعدہ ہوا تھا۔ لیکن نکاح شرعی شرائط کے ساتھ ہوا تھا۔ لڑکا کینیڈا کی حکومت کے سامنے خود کو اس کا شوہر ظاہر کرتا رہا۔ 3 سال بعد ان کی طلاق ہو گئی اور طلاق نامے پر دستخط بھی ہوئے۔ طلاق نامے پر دستخط کے کچھ عرصے بعد ، ان دونوں نے دوبارہ سنجیدگی سے شادی کے لئے ایک دوسرے سے رجوع کر لیا اور لڑکی نے پیسے بھی واپس کر دیئے۔ اس کے بارے میں شرعی راہ نمائی فرمائیں۔
تنقیح: مذکورہ سوال میں طلاق کے متعلق صریح و ضاحت ذکر نہیں کی گئی کہ تین طلاقیں دی ہیں یا ایک دو ، اس لیے مکمل تفصیل لکھ کر دوبارہ سوال کریں۔
جواب تنقیح: مذکورہ صورت میں تحریراً طلاقیں دی گئی ان کے الفاظ یہ تھے “میں تمہیں طلاق دیتا ہوں میں تمہیں طلاق دیتا ہوں ، میں تمہیں طلاق دیتا ہوں”۔ اور ان کے درمیان خلوت صحیحہ بھی نہیں ہوئی۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر واقعتاً دونوں کے درمیان تنہائی نہیں ہوئی تو غیر مدخول بہا ہونے کی وجہ سے ایک طلاقِ بائنہ واقع ہوگئی لڑکا اور لڑکی دوبارہ نکاح کر کے اکٹھے رہ سکتے ہیں۔ البتہ دوبارہ نکاح کے بعد خاوند کو صرف دو طلاقوں کا اختیار ہوگا
الفتاوی الہندیۃ،لجنةالعلماء برئاسة نظام الدين البلخي(1/ 373) دارالفکر
إذا طلق الرجل امرأته ثلاثا قبل الدخول بها وقعن عليها فإن فرق الطلاق بانت بالأولى ولم تقع الثانية والثالثة وذلك مثل أن يقول أنت طالق طالق طالق
الدرالمختار،العلامةعلاءالدين الحصكفي(م:1088هـ) (ص: 212) دارالفکر
(قال لزوجته غير المدخول بها أنت طالق…ثلاثاوقعن) لما تقرر أنه متى ذكر العدد كان الوقوع به(وإن فرق) بوصف أو خبر أو جمل بعطف أو غيره (بانت بالاولى) لا إلى عدة (و) لذا (لم تقع الثانية) بخلاف الموطوءة حيث يقع الكل
تبيين الحقائق، العلامة فخر الدين الزيلعي (م:743هـ)(2/ 213) القاهرة
 قال – رحمه الله – (طلق غير الموطوءة ثلاثا وقعن)…قال – رحمه الله – (وإن فرق بانت بواحدة) أي إن فرق الطلاق بانت بطلقة واحدة وذلك مثل أن يقول أنت طالق واحدة وواحدة وواحدة، أو يقول أنت طالق طالق طالق أو يقول أنت طالق أنت طالق أنت طالق
البحرالرائق،العلامة ابن نجيم المصري(م:970هـ) (4/ 63) دار الكتاب الإسلامي
(قوله ويهدم الزوج الثاني ما دون الثلاث) حتى لو طلقها واحدة، وانقضت عدتها، وتزوجت بآخر وطلقها، وانقضت عدتها منه ثم تزوجها الأول يملك عليها ثلاثا إن كانت حرة، وثنتين إن كانت أمة، ولا يتحقق في الأمة إلا هدم طلقة واحدة، وعند محمد يملك عليها ثنتين في الحرة، وواحدة في الأمة ومراده إن دخل بها، ولو لم يدخل بها لا يهدم اتفاقا كما في القنية
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس