بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

اگر شوہر بیوی سے کہے اگر میں نے آپ کو طلاق دی تو اس کا کوئی اعتبار نہیں پھر فورا ًطلاق دی تو اس کا کیا حکم ہے ؟

سوال

ایک شخص نےاپنی بیوی سےکہا کہ:اگر میں تجھے طلاق دوں تو اس کا کوئی اعتبار نہیں ،پھر اس نے فوراًطلاق دے دی ،تو کیا اس سے طلاق واقع ہوگی یا نہیں ؟

جواب

جی ہاں طلاق واقع ہو جائے گی۔
فتاوی تاتارخانیۃ(4/396)فاروقیہ
رجل خاف من ظالم ان يطلب منه طلاق  امرءته ثلاثافاشهد شهودا    اني ان قلت لها انت طالق ثلاثايكون كذبا     ثم قال لها     انت طالق ثلاثا عقيب الظلم هل يقع الثلاث ؟فقال   نعم۔
المحیط البرہانی (4/392)البیروت
طلاق الھازل واللاعب واقع۔
مجمع الأنهر (2/8)المنار
(ويقع طلاق كل زوج عاقل بالغ) حر، أو عبد (ولو) كان الزوج (مكرها) فإن طلاقه صحيح لا إقراره بالطلاق لأن الإقرار خبر محتمل للصدق والكذب وقيام آلة الإكراه على رأسه يرجح جانب الكذب، وكذا اللاعب والهازل بالطلاق؛ لقوله – عليه الصلاة والسلام – «ثلاث جدهن جد وهزلهن جد النكاح والطلاق والعتاق
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس