اگرکسی شخص نےاپنی سالی سےکہا:ایک ،دو،تین،اپنی بہن کےپاس جاو ،اوربعدمیں وہ شخص کہےکہ اس کاطلاق دینے کاکوئ ارادہ نہیں تھا کیااس صورت میں طلاق واقع ہوگئی یانہیں ؟اورکتنی واقع ہوئیں؟
جواب
مذکورہ صورت میں طلاق واقع نہیں ہوئی،البتہ طلاق کامعاملہ بہت حساس ہے ؛اس لئےاس میں احتیاط کرنی چاہئے۔
الدر المختار(۴/۵۰۰)
(والطلاق يقع بعدد قرن به لا به) نفسه عند ذكر العدد، وعند عدمه الوقوع بالصيغة
أي متى قرن الطلاق بالعدد كان الوقوع بالعدد…ویدخل في العدد أصله وهو الواحدة ولا بد من اتصاله بالإيقا
الد رالمختار(۱۱/۳۴۲)
ورکن التوکیل الایجاب والقبول :فالایجاب من الموکل والقبول من الوکیل :ان یقول قبلت ومایجری مجراہ ،فمالم یوجد لم تتم …….وحاصلہ انہ لابدان یکون فی الامرمایدل علی ان المامور یفعل امرا للامر بطریق النیابۃ عنہ
جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی سرانجام دے رہا ہے
سوال پوچھیں
دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں