کیا یہ صورت شرعاً درست ہے کہ جمعہ کا خطبہ دو افراد کے درمیان تقسیم کر دیا جائے یعنی جمعہ کا ایک خطبہ ایک شخص پڑھے اور دوسرا خطبہ دوسرا شخص؟شریعت کی روشنی میں راہنمائی فرما دیں ۔
جواب
دو آدمیوں کا جمعے کا خطبہ دینا
رسول اللہ ﷺ کے عمل کی مواظبت سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک ہی آدمی کا جمعے کا خطبہ دینا سنت ہے۔کوئی ایک مثال بھی ایسی نہیں ملتی کہ دو آدمیوں نے خطبہ دیا ہو ۔لہٰذا دو آدمیوں کے درمیا ن خطبہ کو بلا عذرتقسیم نہیں کرنا چاہیئے ۔ البتہ اگر درمیان میں کوئی شرعی عذر پیش آ جائے تو دوسرا آدمی بقیہ خطبہ دے سکتا ہے۔
صحيح مسلم (2/ 589)
عن سماك، قال: أنبأني جابر بن سمرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم، كان يخطب قائما، ثم يجلس، ثم يقوم فيخطب قائما، فمن نبأك أنه كان يخطب جالسا فقد كذب، فقد والله صليت معه أكثر من ألفي صلاة
صحيح مسلم (2/ 589)
عن سماك، عن جابر بن سمرة، قال: كانت للنبي صلى الله عليه وسلم خطبتان يجلس بينهما يقرأ القرآن، ويذكر الناس
صحيح مسلم (2/ 589)
عن ابن عمر، قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يخطب يوم الجمعة قائما، ثم يجلس، ثم يقوم. قال: كما يفعلون اليوم
جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی سرانجام دے رہا ہے
سوال پوچھیں
دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں