عورت کا میکہ مسافت شرعی پر ہو اور وہاں پندرہ دن سے کم قیام کی نیت ہو تو وہاں قصر کرے گی یا اتمام ؟
سوال
اگر کوئی عورت لاہور سے فیصل آباد اپنے میکے جاتی ہے (یا اسی طرح کوئی مرد اپنے سسرال جاتا ہے )،اور ان دونوں شہروں کے درمیان مسافتِ شرعی (۴۸ میل سے زیادہ ) بنتی ہے اور وہاں پندرہ دن سے کم قیام کی نیت ہو ،تو ایسے شخص کیلیے نماز کا کیا حکم ہے؟کیا وہ قصر کرے گا یا اتمام کرے گا ؟
جواب
قصر کا حکم
اگر کوئی خاتون شادی کے بعد اپنے میکے جائے یا کوئی مرد اپنے سسرال جائے اور ان کے میکے/سسرال اور گھر کے درمیان اڑتالیس میل یا اس سے زیادہ کی مسافت ہو اور ان کی نیت وہاں پندرہ دن سے کم قیام کی ہوتو یہ مسافرِ شرعی کہلائیں گے اور نماز میں قصر کریں گے۔
بدائع الصنائع (1/ 103)
الأوطان ثلاثة: وطن أصلي: وهو وطن الإنسان في بلدته أو بلدة أخرى اتخذها دارا وتوطن بها مع أهله وولده، وليس من قصده الارتحال عنها بل التعيش بها
(ووطن) الإقامة: وهو أن يقصد الإنسان أن يمكث في موضع صالح للإقامة خمسة عشر يوما أو أكثر
(ووطن) السكنى: وهو أن يقصد الإنسان المقام في غير بلدته أقل من خمسة عشر يوما
الدر المختار (2/ 131)
(الوطن الأصلي) هو موطن ولادته أو تأهله أو توطنه يبطل بمثله) إذا لم يبق له بالأول أهل، فلو بقي لم يبطل بل يتم فيهما
جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی سرانجام دے رہا ہے
سوال پوچھیں
دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں