نمبر۱۔ انبیآء علیہ السلام کے متعلق دریافت طلب یہ ہے کہ کیا حضرت ادریس علیہ السلام جنت میں گئے تھے؟ کون کون سے انبیآء علیہ السلام ابھی بھی حیات ہیں؟
نمبر۲۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور امام مھدی رضی اللہ عنہ چار مکاتب فکر میں سے کس مکتبہ فکر پر عمل کریں گے ؟
نمبر۳۔ایک لڑکا جو بالغ ہے تو کیا اس پر زیر ناف بالو ں کی صفائی کرناضروری ہے اور اگر یہ نہیں کرے تو کیا وہ گناہگار ہو گا نیز زیر ناف کہاں سے کہاں تک صاف کرنا چاہئے اور اگر کوئی نابینا ہو تو وہ کیا کرے ؟براہ کرم جلد جواب دیےکر ممنون فرمائیں ۔
نمبر۴۔ ناخن ،سر کے بال، بغل کے بال ،اور زیر ناف کے بالوں کو کاٹنے کے بعد ان کو کہیں بھی پھنک دیں یا ان کو کہیں صاف جگہ دفن کرے ؟
نمبر۱۔ واضح رہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمانوں میں زندہ ہونا قرآن وحدیث کی واضح نصوص سے ثابت ہے اور اس پر ہمارا عقیدہ ہے۔ اس کےعلاوہ انبیآءکی دنیوی حیات کے بارے میں گفتگو اوربحث و تمحیص سے گریزکرناچاہئے البتہ علماءنے اس سے متعلق جو تحریر کیا ہے اس میں سے مستند اور محقق بات یہ ہے کہ حضرت ادریس علیہ السلام کے متعلق مفسرین اور محدثین کی آراء مختلف ہیں جس آیت میں حضرت ادریس علیہ السلام کی رفعت کا ذکر ہے اس کی تشریح کرتے ہوئے مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع ؒ فرماتے ہے: اس آیت میں رفعت سے مراد رسالت اور قرب الہٰی کا خاص مقام ہے اورجن روایات میں ان کو آسمانوں پراٹھانامنقول ہے وہ سب اسرائیلی روایات کے قبیل سے ہیں (ماخوذ:معارف القران ۵/۳۵۴) اور عظیم مفسر مولناٰ محمد عاشق الہیٰؒ نے تحریر فرماتے ہیں ؛ کہ حضرت ادریس علیہ السلام کی آسمانوں میں حیات کے بارے میں جو روایات ہیں ان کی اسانید متصل اور قوی نہیں ہیں۔ (ماخوذ:انوار البیان ۳/۱۴۵)
حضرت خضر علیہ السلام اور حضرت الیاس علیہ السلام کے بارے میں بعض مفسرین کی رائے ہے کہ وہ اب بھی حیات ہیں اوراور اللہ تعالی کی طرف سے تکوینی امور کی انجام د ہی میں مامورہیں ۔
نمبر۲۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہونے کے حیثیت سے قرآن وسنت پر عمل کریں گے اور غیر منصوص مسائل میں خود مجتہد ہو نگے ۔اسی طرح مھدی علیہ الرضواں بھی خود مجتھد ہو ہونگے ۔
نمبر۳۔زیر ناف بال صاف کرنا سنت ہے اور فطرت کا حصہ ہے اس پر عمل کرنا ہر عاقل بالغ مسلمان کے لئے ضروری ہے۔زیر ناف بالوں کی حد ناف کے نیچے سخت ہڈی سے شروع ہوتی ہے ،مقعداور اعضاءثلاثہ کے اردگرد بال جن کے گندے ہونے کا خدشہ ہو ان سب کو صاف کرنا چاہئے۔
نابینا شخص کے لئے بہتر یہ ہے کہ وہ کیمیکل کریم وغیرہ کے ذریعے سے خود ہی اپنی صفا ئی کرلے بوقت ضرورت کسی دوسرے سے مددبھی لے سکتاہےبشرطیکہ وہ نظرکی حفاظت کرے اورمس بلاحائل بھی نہ ہوکیونکہ ستر غلیظہ کے جس حصے کو دیکھنا ناجائز ہے اس کا چھونا بھی نا جائزہے۔
نمبر۴۔ناخن سر اور بغل کے بالوں کوکاٹنےکے بعد کسی صاف جگہ دفن کرنے چاہئے ۔انہیں گندی جگہ نہیں پھنکنا چاہیے ۔(ماخذہ:بہشتی زیور۷۴۲: فتاوی رشیدیۃ۳۷۶،۳۷۷ )
[مريم: 56، 57]
وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ إِدْرِيسَ إِنَّهُ كَانَ صِدِّيقًا نَبِيًّا وَرَفَعْنَاهُ مَكَانًا عَلِيًّا }
روح البيان (5/ 408)رشیدیۃ
وفى تفسير البغوي اربعة من الأنبياء احياء الى يوم البعث اثنان فى الأرض وهما الخضر والياس اى والياس فى البر والخضر فى البحر يجتمعان كل ليلة على ردم ذى القرنين يحرسانه وأكلهما الكرفس والكمأة واثنان فى السماء إدريس وعيسى عليهما السلام
التفسير المظهري (4/ 391)رشیدیۃ
واختلفوا في انه حى في السماء ام ميت فقال قوم هو حى وقالوا اربعة من الأنبياء احياء اثنان في الأرض الخضر والياس واثنان في السماء إدريس وعيسى
تفسير أبي السعود (5/۳۳۲)بیروت
(ورفعنا مَكَاناً عَلِيّاً) هو شرفُ النبوة والزُّلفى عند الله عز وجل وقيل علوُّ الرتبة بالذكر الجميل في الدنيا كما في قوله تعالى وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ وقيل الجنة وقيل السماءُ السادسةُ أو الرابع
سنن الترمذي (2/155)ابواب الزھد
عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من حسن إسلام المرء تركه ما لا يعنيه
2 مقدمہ رد المحتار(1/ 57)سعید
وإنما يحكم بالاجتهاد، أو بما كان يعلمه قبل من شريعتنا بالوحي، أو بما تعلمه منها وهو في السماء، أو أنه ينظر في القرآن فيفهم منه كما كان يفهم نبينا – عليه الصلاة والسلام – اهـ واقتصر السبكي على الأخير.وذكر منلا علي القاري أن الحافظ ابن حجر العسقلاني سئل هل ينزل عيسى – عليه السلام – حافظا للقرآن والسنة أو يتلقاهما عن علماء ذلك الزمان؟ فأجاب: لم ينقل في ذلك شيء صريح، والذي يليق بمقامه – عليه الصلاة والسلام – أنه يتلقى ذلك عن رسول الله – صلى الله عليه وسلم – فيحكم في أمته كما تلقاه منه؛ لأنه في الحقيقة خليفة عنه وما يقال إن الإمام المهدي يقلد أبا حنيفة، رده منلا على القاري في رسالته المشرب الوردي في مذهب المهدي وقرر فيها أنه مجتهد مطلق
تجلیات صفدر (۱/۳۲۳)فتاوی دارالعلوم زکریا(۱/۱۵۱
۳۔صحيح مسلم (1/128)یادگارشیخ:
عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «الفطرة خمس – أو خمس من الفطرة – الختان، والاستحداد، وتقليم الأظفار، ونتف الإبط، وقص الشارب
رد المحتار (۹/۶۶۸)رشیدیۃ
(قوله وكره تركه) أي تحريما لقول المجتبى ولا عذر فيما وراء الأربعين ويستحق الوعيد اهـ وفي أبي السعود عن شرح المشارق لابن ملك روى مسلم عن أنس بن مالك «وقت لنا في تقليم الأظفار وقص الشارب ونتف الإبط أن لا نترك أكثر من أربعين ليلة
الفتاوى الهندية (5/437)بیروت
ويبتدئ في حلق العانة من تحت السرة ولو عالج بالنورة في العانة يجوز كذا في الغرائب
في جامع الجوامع حلق عانته بيده وحلق الحجام جائز إن غض بصره كذا في التتارخانية
شرح النووي على مسلم (3/ 148)بیروت
وأما الاستحداد فهو حلق العانة سمي استحدادا لاستعمال الحديدة وهي الموسى وهو سنة والمراد به نظافة ذلك الموضع والأفضل فيه الحلق ويجوز بالقص والنتف والنورة والمراد بالعانة الشعر الذي فوق ذكر الرجل وحواليه وكذاك الشعر الذي حوالي فرج المرأة ونقل عن أبي العباس بن سريج أنه الشعر النابت حول حلقة الدبر فيحصل من مجموع هذا استحباب حلق جميع ما على القبل والدبر وحولهما وأما وقت حلقه فالمختارأنه يضبط بالحاجة وطوله فإذا طال حلق وكذلك الضبط في قص الشارب ونتف الإبط وتقليم الأظفار وأما حديث أنس المذكور في الكتاب (وقت لنا في قص الشارب وتقليم الأظفار ونتف الابط وحلق العانة ألا يترك أكثر من أربعين ليلة) فمعناه لا يترك تركا يتجاوز به أربعين لا أنهم وقت لهم الترك أربعين والله أعلم
تاج العروس (35/ 433)بیروت
العانة: منبت الشعر فوق القبل من المرأة، وفوق الذكر من الرجل؛ والشعر الثابت عليهما يقال له الإسب قال الأزهري: وهذا هو الصواب
رد المحتار2/ 481سعید
والعانة الشعر القريب من فرج الرجل والمرأة ومثلها شعر الدبر بل هو أولى بالإزالة لئلا يتعلق به شيء من الخارج عند الاستنجاء بالحجر
الدر المختار( 2/195)سعید
(ويغسلها تحت خرقة) السترة (بعد لف) خرقة (مثلها على يديه) لحرمة اللمس كالنظر
رد المحتار) (9/668)رشیدیۃ
فإذا قلم أظفاره أو جز شعره ينبغي أن يدفنه فإن رمى به فلا بأس وإن ألقاه في الكنيف أو في المغتسل كره لأنه يورث داء خانية ويدفن أربعة الظفر والشعر وخرقة الحيض والدم