بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

بغیر ہمبستری کے طلاق دینے کی صورت میں عورت کے لیے عدت کا حکم

سوال

میں نے ایک عورت سے نکاح کیا کچھ ہی دن بعد اس کو طلاق دے دی اس سے ہمبستری نہیں کی تو آیا اس کے لیے عدت ضروری ہے یا نہیں ؟

جواب

اگر نکاح کے بعد آپ دونوں میاں بیوی کوایسی تنہائی کچھ وقت کے لیے میسر آئی تھی جس میں آپ ہمبستری کر سکتے تھے توپھر اس عورت کے لیے عدت ضروری ہے ورنہ عدت ضروری نہیں ہے ۔
الفتاوى الهندية (1/ 526)دارالفكر:
رجل تزوج امرأة نكاحا جائزا فطلقها بعد الدخول أو بعد الخلوة الصحيحة كان عليها العدة .
فتاوى قاضي خان(1/499)رشيدية:
رجل تزوج امرأة نكاحا جائزا وطلقها بعد الدخول أو بعد الخلوة الصحيحة كان عليها العدة .
الدر المختار (3/ 122)سعيد:
(وتجب العدة في الكل) أي كل أنواع الخلوة ولو فاسدا (احتياطا) أي استحسانا لتوهم الشغل.
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس