اگر شرعی اعتبار سے خلع یا تنسیخ نکاح نہیں ہوئی ہے تو میری بیوی مجھ سے طلاق یا خلع لیے بغیر یا شرعی طور پر فسخ نکاح کروائے بغیر کہیں اور نکاح کرتی ہے تو شرعاً اس شادی کا کیا حکم ہے؟ اور اس دوسری شادی میں شرکت کرنے والوں اور نکاح پڑھانے والے (نکاح خواں) کو شرعی طور پر کیا حکم ہے؟ اور اس صورت میں اگر اولاد پیدا ہو گی تو اس کا کیا حکم ہے؟
جواب
اگر نکاح خواں معلوم ہو نے کے باوجود نکاح پڑھائے تو حرام کام میں معاونت کی وجہ سے گناہ گار ہوگا ،البتہ نکاح کسی بھی صورت میں منعقد نہیں ہوگا۔
جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی سرانجام دے رہا ہے
سوال پوچھیں
دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں