بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

حضرت عائشہ صدیقہ اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہما کا مہر مروجہ پیمانے کے مطابق کیا ہے؟

سوال

مہر سے متعلق میں نے کچھ گوگل پر تحقیقات کیں تھیں، وہ پیش خدمت ہیں۔ دیکھیں کہ یہ درست ہیں یا نہیں؟
(۱) حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا مہر
480 درہم: گرام میں:=1428 2.975×480
تولے میں: تولہ چاندی 122.39= 11.66 تقسیم گرام1428
حضرت فاطمہ کا مہر = تقریبا 4. 122 تولہ چاندی
(۲) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا مہر
روایات کے مطابق مہر = 500 درہم: گرام میں : 1487.5=2.97×500 گرام چاندی
تولے میں: تولہ چاندی 127.6 = 11.66 تقسیم گرام1487.5
حضرت عائشہ کا میرے تقریباً 6، 127 تولہ چاندی

جواب

مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی محمد شفیع عثمانی رحمہ اللہ کے بیان کرده اوزان کے مطابق درست مقدار میں درج ذیل ہیں ۔
نمبر۱۔حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کے مہر کی مقدار
500درہم : 1530.9 گرام =3.061× 500
تولے میں : تولہ چاندی 131.25 = 11.6638 تقسیم گرام 1530.9
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا مہر تقریباً تولہ چاندی 131.25 ( ماخوذ : اوزان شرعیہ ص:۶۲ مکتبہ معارف القرآن کراچی ،جواہر الفقہ ( ۳/ ۴۱۰) دارالعلوم کراچی )
نمبر۲۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کے مہر کی مقدار : 500درہم : 1530.9 گرام =3.061× 500 تولے میں : تولہ چاندی 131.25 = 11.6638 تقسیم گرام 1530.9 حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا مہر تقریباً تولہ چاندی 131.25 لہٰذا سوال میں ذکر کردہ مقداریں ہمارے علم کے مطابق درست نہیں ہیں ۔
صحيح مسلم (2/ 1042)
عن أبي سلمة بن عبد الرحمن، أنه قال: سألت عائشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم: كم كان صداق رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قالت: «كان صداقه لأزواجه ثنتي عشرة أوقية ونشا»، قالت: «أتدري ما النش؟» قال: قلت: لا، قالت: «نصف أوقية، فتلك خمسمائة درهم، فهذا صداق رسول الله صلى الله عليه وسلم لأزواجه»
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس