یہ مسئلہ بیعت و سلوک کے حوالے سے ہے۔ ہمارے علاقے میں ایک جگہ آٹھ بہنیں ہیں جن کے گھر والے ان کا رشتہ نہیں کر رہے۔ ایک عالم نے ان میں سے ایک عورت کا نکاح صرف دو گواہوں کے سامنے تیس ماشے چاندی کے عوض کر دیا، اور بعد میں چار پانچ ساتھیوں کو بھی خبر دے دی۔ ان چھ سات افراد کے علاوہ کسی کو علم نہیں ، حتی کہ لڑکی کے گھر والوں کو بھی خبر نہیں۔ جب اس پر ولی کی اجازت کے حوالے سے سوال اٹھایا گیا تو وہ کہنے لگے کہ ولی سُو کے اختیار کی اجازت نکاح کے لیے ضروری نہیں ۔ اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا اس مولوی صاحب سے بیعت توڑ دی جائے یا واقعی انہوں نے جائز کام کیا ہے ؟
واضح رہے کہ حدیث مبارکہ میں سب کے سامنے نکاح کرنے کی ترغیب آئی ہے] أعلنوا هذا النكاح سنن الترمذي: 2/ 390[ چنانچہ مذکورہ صورت میں عالم کو چاہیے تھا کہ اولیاء کی اجازت سے اور سب کے سامنے مذکورہ عورت کا نکاح کرتا ،صرف دو گواہوں کی موجودگی میں اس کا نکاح پڑھانا ایک غیر مناسب عمل ہے۔تاہم مذکورہ عورت کا نکاح جس مرد سے کیا گیا ہے اگر یہ مرد اس عورت کا کفو ہے تو مذکورہ نکاح پڑھانا جائز ہے ۔ اس پر ان کو ملامت کرنا درست نہیں نیز بیعت توڑنے کی بھی کوئی ضرورت نہیں ۔ (ماخذہ: تبویب دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ 26/30 )
سنن الترمذي (2/ 390)
عن عائشة قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أعلنوا هذا النكاح، واجعلوه في المساجد، واضربوا عليه بالدفوف.
مشکوٰۃ المصابیح (2/271)حبیبیۃ رشیدیۃ:
عن أبي سعيد، وابن عباس قالا: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ” من ولد له ولد فليحسن اسمه وأدبه، فإذا بلغ فليزوجه فإن بلغ ولم يزوجه فأصاب إثما، فإنما إثمه على أبيه”.
مشکوٰۃ المصابیح (2/271)حبیبیۃ رشیدیۃ:
عن عمر بن الخطاب و أنس بن مالک عن رسول اللہ ﷺ قال فی التورٰۃ مکتوب من بلغت إبنتہ إثنتی عشرۃسنۃ ولم یزوجھا فأصابت إثما فإثم ذلک علیہ.
الفتاوى الهندية (1/ 292)
وروى الحسن عن أبي حنيفة – رحمه الله تعالى – أن النكاح لا ينعقد وبه أخذ كثير من مشايخنا رحمهم الله تعالى، كذا في المحيط والمختار في زماننا للفتوى رواية الحسن وقال الشيخ الإمام شمس الأئمة السرخسي رواية الحسن أقرب إلى الاحتياط، كذا في فتاوى قاضي خان.
الدر المختار (3/ 56)
(ويفتى) في غير الكفء(بعدم جوازه أصلا) وهو المختار للفتوى (لفساد الزمان)
رد المحتار (3/ 57)
(قوله وهو المختار للفتوى) وقال شمس الأئمة وهذا أقرب إلى الاحتياط.
رد المحتار (3/ 242)
أن نكاح الفضولي صحيح موقوف على الإجازة بالقول أو بالفعل