بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

کیا ولیمہ کی دعوت، نکاح کے بعد کرنے سے سنت ادا ہوجائے گی؟

سوال

ولیمہ کی سنت کب ادا ہوگی؟ کچھ لوگ نکاح کے دن شام کو ہی مہر ادا کرکے رات کو کھانا کھلاتے ہیں۔ اور اس کو ولیمہ مانتے ہیں تو ایسا کرنے سے ولیمہ کی سنت اد اہوگی؟

جواب

دعوت ولیمہ کا افضل وقت میاں بیوی کی خلوت میں باہمی ملاقات کے بعد ہے، تاہم اگر عقد نکاح کے بعد ولیمہ کی دعوت کی تب بھی سنت ادا ہو جائےگی۔
إعلاء السنن،العلامة ظفر أحمد العثمانی(م:1394 هـ) (8/3645) دارالفکر
والمنقول من فعل النبی ﷺ أنھا بعد الدخول کأنہ یشیر إلی قصۃ زینب بنت جحش، وقد ترجم علیہ البیہقی بعد الدخول …..وحدیث فی ھذا الباب صریح فی أنھا أي الولیمۃ بعد الدخول
مرقاة المفاتيح،لملاعلي القاري (م:1014هـ) (5/ 2104) دارالفكر
 قيل إنها تكون بعد الدخول، وقيل عند العقد، وقيل:عندهما واستحب أصحاب مالك أن تكون سبعة أيام والمختار أنه على قدر حال الزوج. (متفق عليه)
الفتاوی الہندیۃ،لجنةعلماء برئاسة نظام الدين البلخي (5/ 343) دارالفکر
ووليمة العرس سنة، وفيها مثوبة عظيمة وهي إذا بنى الرجل بإمرأته ينبغي أن يدعو الجيران والأقرباء والأصدقاء ويذبح لهم ويصنع لهم طعاما.واللہ اعلم
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس