بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

استخارہ منفی آنے کی بعد رشتہ نکاح کرنا

سوال

بعض اوقات کسی جگہ رشتے کی بات کرنے جاتے ہیں تو وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم استخارہ کریں گے،اگر استخارہ مثبت آیا تو رشتہ کریں گے،منفی آیا تو نہیں ۔معلوم یہ کرنا ہے کہ استخارہ منفی آنے کے بعدبھی رشتہ کیاجا سکتا ہے؟

جواب

سوال کے جواب سے پہلے بطور تمہید یہ سمجھ لیں کہ کسی بھی اہم کام میں استخارہ کرنا (دو رکعت نفل پڑھ کر اللہ تعالی سے دعا کرنا)ایک مسنون عمل ہے ،اور اس کی دعا بھی وارد ہوئی ہے ،نیز استخارہ صاحب معاملہ کو خود کرنا چاہیئے کسی اور سے استخارہ کرانے کی ضرورت نہیں،اور اس کے بعد خواب کا آنا بھی ضروری نہیں اور استخارہ سات مرتبہ بھی کیا جا سکتا ہے۔استخارہ کرنے کے بعد جس جانب دلی رجحان ہو اس پر عمل بہتر ہے ، لیکن اگر کوئی شخص کسی وجہ سے اپنے دلی رجحان کے خلاف عمل کرے تو شرعاً کوئی گناہ نہیں، مگر اس میں خیر و برکت یقینی نہ ہوگی۔ لہٰذا صورت مسئولہ میں استخارہ منفی آنے کے بعد بھی رشتہ کیا جا سکتا ہے۔( مستفاد: امداد الفتاوی، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الاستخارۃ)۔
 سنن الترمذي، ابوعيسى محمد بن عيسى الترمذي(م:279هـ)(2/ 345) بيروت
 عن جابر بن عبد الله، قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعلمنا الاستخارة في الأمور كلها كما يعلمنا السورة من القران، يقول: ” إذا هم أحدكم بالأمر فليركع ركعتين من غير الفريضة، ثم ليقل: اللهم إني أستخيرك بعلمك، وأستقدرك بقدرتك، وأسألك من فضلك العظيم، فإنك تقدر ولا أقدر، وتعلم ولا أعلم، وأنت علام الغيوب، اللهم إن كنت تعلم أن هذا الأمر خير لي في ديني ومعيشتي وعاقبة أمري  أو قال: في عاجل أمري وآجله فيسره لي، ثم بارك لي فيه، وإن كنت تعلم أن هذا الأمر شر لي في ديني ومعيشتي وعاقبة أمري – أو قال: في عاجل أمري وآجله – فاصرفه عني، واصرفني عنه، واقدر لي الخير حيث كان، ثم أرضني به، قال: ويسمي حاجت
رد المحتار ،العلامة ابن عابدين الشامي(م:1252هـ)(2/ 27) سعيد
وينبغي أن يكررها سبعا، لما روى ابن السني،يا أنس إذا هممت بأمر فاستخر ربك فيه سبع مرات، ثم انظر إلى الذي سبق إلى قلبك فإن الخير فيه
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس