میرے ملکیتی پلاٹ کے اندر2 قبریں پرانی ہیں جو کہ میرے والدین کی ہیں۔ بندہ کو اس پلاٹ کے تعمیر کرنے اور فروخت کرنے کی ضرورت ہے ۔ قبریں تقریبا 65 سال پرانی میں جو کہ پہلے خود ہی ہموار بھی ہو چکی تھیں۔ ہم نے مسئلہ دریافت کیا تو جواب میں کہا گیا کہ یا تو چار دیواری کریں یا پھر اس جگہ کو خالی چھور دیں یاپھر اگر ضرورت زیادہ ہے تو ہموار کرکے فرش ڈال دیں اور گندے پانی کا استعمال نہ کریں۔ لہٰذا ہم یہ چاہتے ہیں کہ قبروں والی جگہ( جو کہ گزرگاہ کےلئے تنگ ہے) کو ہموار کردیں ۔ اس کی شرعی حیثیت کیا ہے اور تحریری طور پر فتوٰی جاری کیا جائے۔
ردالمحتار،العلامة ابن عابدين الشامي(م:1252هـ) (2/ 233)سعيد
وقال الزيلعي: ولو بلي الميت وصار ترابا جاز دفن غيره في قبره وزرعه والبناء عليه اهـ. قال في الإمداد: ويخالفه ما في التتارخانية إذا صار الميت ترابا في القبر يكره دفن غيره في قبره لأن الحرمة باقية، وإن جمعوا عظامه في ناحية ثم دفن غيره فيه تبركا بالجيران الصالحين، ويوجد موضع فارغ يكره ذلك. اهـ.قلت: لكن في هذا مشقة عظيمة، فالأولى إناطة الجواز بالبلى إذ لا يمكن أن يعد لكل ميت قبر لا يدفن فيه غيره، وإن صار الأول ترابا لا سيما في الأمصار الكبيرة الجامعة، وإلا لزم أن تعم القبور السهل والوعر، على أن المنع من الحفر إلى أ يبقى عظم عسر جدا وإن أمكن ذلك لبعض الناس، لكن الكلام في جعله حكما عاما لكل أحد فتأمل.واللہ اعلم