یاں منشی ہسپتال کے قبرستان میں جگہ نہیں ہے وہاں کے گورکن کیا کام کرتے ہیں جو قبریں پرانی ہو جاتی ہیں اور جن کے لواحقین قبروں پر نہیں آتے ان کو آہستہ آہستہ توڑ کر جگہ بنالیتے ہیں اور پھر انہی کو دوبارہ کھود کر نئی میت اس میں دفن کرتے ہیں۔ اور لوگوں سے بھاری رقم وصول کرتے ہیں۔ آیاان کے لیے ایساکام کرنا جائز ہے یا نہیں ؟
جو قبریں اتنی پرانی ہوجائیں کہ جس میں مردوں کی ہڈیاں بھی مٹی بن جائیں ایسی قبروں کو برابر کرکے ان پر نئی میت کو دفن کرنا جائز ہے۔ لیکن اگر قبر اتنی بوسیدہ نہ ہوئی ہو اور میت کے اعضاء گل کر مٹی نہ ہوئے ہوں تو ایسی صورت میں ان قبروں کو برابر کرکے دوسرے مردے دفن کرنا درست نہیں۔ نیز موقوفہ قبرستان کی زمین کو فروخت کرنا ناجائز اور حرام عمل ہے۔ لہٰذا گورکن کا مردہ دفنانے کے لیے اپنی اجرت کے علاوہ زمین کی رقم وصول کرنا ناجائز ہے اس سے اجتناب ضروری ہے۔
تبيين الحقائق، العلامة فخر الدين الزيلعي (م:743هـ)(1/ 246)القاهرة
ولو بلي الميت وصار ترابا جاز دفن غيره في قبره وزرعه والبناء عليه
الدرالمختار،العلامةعلاءالدين الحصكفي(م:1088هـ)(5/۵۹،۵۸) دارالفکر
(كما بطل)… (بيع ماليس في ملكه)… لأنه – عليه الصلاة والسلام – «نهى عن بيع ما ليس عند الإنسان، ورخص في السلم»
فتح القدير،العلامة ابن الهمام (م:861هـ) (6/ 220) دارالفکر
وإذا صح الوقف لم يجز بيعه ولا تمليكه
الدرالمختار،العلامةعلاءالدين الحصكفي(م:1088هـ) (4/ 351) دارالفکر
(فإذا تم ولزم لا يملك ولا يملك ولا يعار ولا يرهن)
ردالمحتار،العلامة ابن عابدين الشامي(م:1252هـ)(4/ 352) دارالفکر
(قوله: لا يملك) أي لا يكون مملوكا لصاحبه ولا يملك أي لا يقبل التمليك لغيره بالبيع ونحوه لاستحالة تمليك الخارج عن ملكه، ولا يعار، ولا يرهن لاقتضائهما الملك درر