بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

والد کے انتقال کے بعد عورت اپنی شادی کا خرچہ خود اٹھائے گی یا بھائی وغیرہ

سوال

ایک شخص کے انتقال پر اس کی وراثت بیٹوں اور بیٹیوں میں تقسیم ہوگئی، ایک بیٹی کی شادی نہیں ہوئی۔ اب اس کی شادی کا پروگرام ہے ، شادی کا خرچہ بھائی اٹھائیں گے یا جس لڑکی کی شادی ہے وہ؟

جواب

مذکورہ سوال میں شادی کے اخراجات مرحوم کے ترکہ میں یا دیگر بہن بھائیوں پر لازم نہیں، بلکہ جس خاتون کی شادی ہے ، وہ خود اپنی شادی کے اخراجات کی ذمہ دار ہے۔ تاہم اخلاق ومروت کا تقاضا ہے کہ بہن بھائی، حسبِ استطاعت شادی کے اخراجات میں اس کے ساتھ تبرعاًتعاون کریں۔
الفتاوی الہندیۃ،لجنةعلماء برئاسة نظام الدين البلخي (1/ 564) دارالفکر
وإن كان الأب قد مات وترك أموالا، وترك أولادا صغارا كانت نفقة الأولاد من أنصبائهم، وكذا كل ما يكون وارثا فنفقته في نصيبه
المحيط البرهاني، برهان الدين محمودبن أحمد(م:616هـ)(3/ 574) دار الكتب العلمية
فإن كان الأب قد مات وترك أموالاً وأولاداً صغاراً كان نفقة الأولاد من أنصبائهم لأنهم أغنياء وكذلك كل ما يكون وارثاً فنفقته في نصيبه
خلاصة الفتاوى،طاهربن أحمد(م:542هـ)(1\2)رشیدیۃ
فإن مات الأب وترك أولادا وزوجة فنفقة كل واحد فى نصيبه.واللہ اعلم
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس