بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

بیٹی کے مہر میں اس کے والد کا تصرف کرنا

سوال

ایک عورت کے لیے دو تولہ سونا مہر تھاجو شوہر کی طرف سےعورت کو ادا کر دیا گیاتھا ۔ وہ مہر عورت کے والد کے پاس تھا ،اس مہر میں سے ایک تولہ سونا اپنی بہو کے مہر میں دیا اور ایک تولہ سونے کی وصیت کی کہ یہ میری چھوٹی بیٹی کے لیے ہے ۔اس طرح کرنا درست ہے یا نہیں؟

جواب

صورت مسئولہ میں مہر شرعاً اس خاتون کی ملکیت ہے ؛اس لیے والد کے لیے بیٹی کی اجازت کے بغیر اس کے مال میں مذکورہ تصرف کرنے کی قطعاًاجازت نہیں ہے۔اگر بغیر اجازت کے تصرف کرلیا ہےتو والد پرلازم ہے کہ یہ مال بیٹی کو واپس کرے ۔
مشکوٰۃ المصابیح (1/255)
“وعن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «‌ألا لا ‌تظلموا ‌ألا ‌لا يحل مال امرئ ‌إلا بطيب نفس منه. رواه البيهقي في شعب الإيمان
الفتاوى الهندية (1/ 316)
 وليس للأب أن يهب مهر ابنته عند عامة العلماء، كذا في البدائع
مجلة الأحكام العدلية (ص: 27)
(المادة 96) : لا يجوز لأحد أن يتصرف في ملك الغير بلا إذنه
(المادة 97) : لا يجوز لأحد أن يأخذ مال أحد بلا سبب شرعي
شرح المجلۃ الاحکام(1/265)
فمن تناول مال احد بإحدى هذه الطريق فهو ظالم غاصب يجب عليه رده قائما ، او مثله او قيمته هالكاً
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام (1/ 96)
لا يجوز لأحد أن يتصرف في ملك الغير بلا إذنه هذه المادة مأخوذة من المسألة الفقهية (لا يجوز لأحد التصرف في مال غيره بلا إذنه ولا ولايته) الواردة في الدر المختار
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس