میری ماہانہ تنخواہ 24 ہزار ہے ،جس میں میرا اور میرے گھر کا گزارا بمشکل ہوتا ہے ۔اکثر مہینے کے آخر میں ضروری اخراجات پورے کرنے کے لیے قرض لینا پڑ جاتا ہے ،اور اس کے علاوہ مجھ پر پہلے سے ہی خاصی زیادہ رقم کا قرض واجب الادا ہے۔اس کے علاوہ میری کوئی اور آمدنی بھی نہیں ہے ۔اب میرا سوال یہ ہے کہ: کیا میں اس حالت میں زکوۃ لے سکتا ہوں ؟اور اگر زکوۃ لے لوں تو کیا اس رقم سے اپنا قرض ادا کرنا جائز ہوگا؟
الهداية في شرح بداية المبتدي (1/ 112) دار احياء التراث العربي
ويجوز دفعها إلى من يملك أقل من ذلك وإن كان صحيحا مكتسبا ” لأنه فقير والفقراء هم المصارف ولأن حقيقة الحاجة لا يوقف عليها فأدير الحكم على دليلها وهو فقد النصاب
الفتاوى الهندية (1/ 189) دار الفكر
ويجوز دفعها إلى من يملك أقل من النصاب، وإن كان صحيحا مكتسبا كذا في الزاهدي
البحر الرائق (2/ 258) دار الكتاب الإسلامي
يجوز دفع الزكاة إلى من يملك ما دون النصاب أو قدر نصاب غير تام، وهو مستغرق في الحاجة