2015 میں میرے شوہر نے مجھے اس شرط پر طلاق دے دی کہ اگر میں کبھی انیق نامی لڑکے سے بات کروں، حالانکہ انیق اور میرے درمیان کوئی بات نہیں تھی۔ اس نے بس کچھ فرض کیا اور بغیر کسی وضاحت کے ایک طلاق کا اعلان کر دیا۔ اس واقعے کے چند دن بعد مجھے کسی کام کی وجہ سے انیق سے بات کرنی پڑی، میں نے اپنے شوہر کو صورتحال بتائی تو اس نے کہا کہ میں انیق سے بات کر سکتی ہوں کیونکہ وہ اس وقت کی مجبوری تھی، تو میری معلومات کے مطابق وہ طلاق مجھ پر ہو گئی۔
دوسری بار میرے شوہر نے میری ساس کے دوسرے نکاح کی بات کسی کو بتانے پر طلاق کی دھمکی دی۔ اس نے کہا کہ اگر میں کبھی کسی کو بتاؤں تو یہ اس سے طلاق ہے۔ میں نے اپنی ساس کے دوسرے نکاح کی بات اپنی والدہ سے کر دی، میں بالکل بھول بیٹھی تھی کہ میرے شوہر نے اس پر طلاق رکھی ہوئی ہے۔
تیسری بار اس نے طلاق اس شرط پر دی کہ اگر میں کسی مرد سے بے تکلفی کروں تو مجھے تیسری طلاق ہے۔ یہ کہتا ہے کہ میری نیت کچھ اور تھی کہ اگر تمہارا اس کے ساتھ کوئی ایکسٹرا میریٹل افیئر(ناجائز تعلقات) چلا تو۔ مفتی صاحب، میری کچھ مردوں سے جو میرے دوست بھی ہیں، ان سے بے تکلفی ہے، اور میرا اللہ جانتا ہے اور میں جانتی ہوں کہ میرا کسی انسان کے ساتھ افیئر والا سین بھی ہوا۔ کیونکہ مفتی صاحب، جب بہت سی چیزیں گھر کے اندر نہ مل رہی ہوں تو انسان باہر اس کی تلاش کرتا ہے۔ اب تک اس کو نہیں معلوم تھا کہ دو طلاقیں مجھ پر ہو چکی ہیں، کیونکہ ساس کی بات میں نے اپنی ماں کو بتائی، اس بارے میں اس کو علم نہیں تھا۔ میں نے ڈر کے اس کو کبھی نہیں بتایا، اور جب میں نے اس کو یہ بات بتا دی کہ ہماری دو طلاقیں ہو چکی ہیں تو وہ گھبرا گیا اور الگ الگ مفتی ،مولویوں کے بیانات مجھے سنانے لگ گیا کہ ایسے نہیں ہوتا، ویسا نہیں ہوتا۔
ان 14 سالوں میں بہت بار ایسے واقعات ہوئے کہ جب وہ مجھے طلاق کی دھمکی دیتا، کیونکہ اس کی عادت تھی۔ اس کو لگتا تھا کہ یہ ایک واحد طریقہ ہے جس سے وہ مجھے سنبھال سکتا ہے، جبکہ میں بارہا اس کو کہتی تھی کہ مجھے پیار سے سمجھاؤ، تمہاری ہر بات پیار سے سمجھ جاؤں گی۔آپ سے درخواست ہے کہ شریعت کے مطابق مجھے بتائیے کہ میرا رشتہ کہاں کھڑا ہے۔
تنقیح:مذکورہ پہلے دو واقعات کے بعد کیا آپ دونوں اکٹھے رہے تھے؟ یعنی کیا شوہر نے رجوع کر لیا تھا، یا آپ دونوں ایک دوسرے سے الگ ہو گئے تھے اور رجوع کی صورت پیش نہیں آئی؟
جوابِ تنقیح: ہم دونوں اکٹھے ہی رہے، الگ نہیں ہوئے تھے۔
صورتِ مسئولہ میں اگر واقعی آپ کے شوہر نے تین مختلف مواقع پر طلاق کو شرط کے ساتھ معلق کیا تھا، اور بعد میں وہ تینوں شرطیں بھی پائی گئیں، تو ایسی صورت میں آپ پر تینوں طلاقیں واقع ہو چکی ہیں، جس کے نتیجے میں نکاح مکمل طور پر ختم ہو گیا ہے، اور اب آپ دونوں کا میاں بیوی کی حیثیت سے ایک ساتھ رہنا شرعاً جائز نہیں۔لہٰذا عدت گزارنے کے بعدآپ کہیں اور نکاح کر سکتی ہیں ۔
واضح رہے کہ مذکورہ جواب ،سوال میں ذکر کردہ صورتِ حال کے مطابق ہے، اگر حقیقتِ حال اس کے خلاف ہو تو حکم بھی مختلف ہو سکتا ہے
کما قال اللہ تعالی فی القرآن المجید
{فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَه} [البقرة: 230]
صحيح البخاري (2/792)محمودیۃ
كان ابن عمر، إذا سئل عمن طلق ثلاثا، قال: «لو طلقت مرة أو مرتين، فإن النبي
صلى الله عليه وسلم أمرني بهذا، فإن طلقتها ثلاثا حرمت حتى تنكح زوجا غيرك»
المبسوط)8/136)دارالمعرفة
أن الطلاق المعلق بالشرط يجعل عند وجود الشرط كالمنجز
بدائع الصنائع (3/126)دار الكتب العلمية
(فصل) وأما الذي يرجع إلى المرأة فمنها الملك أو علقة من علائقه؛ فلا يصح الطلاق إلا في الملك أو في علقة من علائق الملك وهي عدة الطلاق أو مضافا إلى الملك.واللہ اعلم