بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

رخصتی سے قبل طلاق ہو جائے تو اس صورت میں مہر کا کیا حکم ہے؟

سوال

لڑكے اور لڑکی کا نکاح گھر والوں کی رضامندی سے اس طرح ہوا کہ لڑکے کی طرف سے ایجاب ہوا اور لڑکی طرف سے قبول نہیں ہوا (دستخط) اور لڑکی کا والد اور بھائی بھی اس مجلس میں موجود تھے ۔اس کے بعد رخصتی نہیں ہوئی ۔لڑکے کی طرف سے مہر معجل ادا کر دیا گیا ہے۔اب دونوں خاندانوں میں لڑائی جھگڑے کی وجہ سے بات طلاق تک جا پہنچی ہے ۔ سوال یہ کہ یہ نکاح منعقد ہوا یا نہیں ؟ طلاق کی صورت میں مہر کا کیا حکم ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ لڑکی سے اس کے والد نے اجازت لیکر نکاح خواں کے سامنے اس لڑکی کی طرف سے نکاح قبول کر لیا ہوگا۔ اگر صورتِ حال واقعۃً ایسی ہی ہو تو یہ نکاح منعقد ہو گیا ہے ۔ اگرچہ لڑکی نے دستخط نہیں کیے ۔
اب اگر رخصتی وخلوت ِ صحیحہ ( یعنی لڑکا اور لڑکی ایسی تنہائی میں ملیں کہ دونوں کے درمیان کوئی تیسرا شخص نہ ہو اور ہم بستری کرنے سے کوئی شرعی ، طبعی یا حسی سبب مانع نہ ہو ) سے پہلے شوہر بیوی کو طلاق دے گا تو ایک طلاق سے بیوی بائنہ ہو جائے گی۔ ان کا نکاح ختم ہوجائے گا اور ایسی صورت میں شوہر کے ذمہ متعینہ مہر کا نصف بیوی کو دینا لازم ہوتا ہے ۔ پیشگی ادا کر نے کی صورت میں بیوی پر ادا شدہ مہرکا نصف شوہر کو واپس کرنا لازم ہوتا ہے
کما قال الله تعالیٰ:
{وَإِنْ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ وَقَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِيضَةً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ} [البقرة: 237]
التفسير المظهري (1/ 333):
اى الواجب نصف ما فرضتم لهن ولا يجب المتعة زائدا على نصف المهر في هذه الصورة عند الجمهور
بدائع الصنائع (2/ 231):
ثم النكاح كما ينعقد بهذه الألفاظ بطريق الأصالة ينعقد بها بطريق النيابة، بالوكالة، والرسالة؛ لأن تصرف الوكيل كتصرف الموكل، وكلام الرسول كلام المرسل۔
الفتاوى الهندية (1/ 303):
والمهر يتأكد بأحد معان ثلاثة: الدخول، والخلوة الصحيحة، وموت أحد الزوجين سواء كان مسمى أو مهر المثل حتى لا يسقط منه شيء بعد ذلك إلا بالإبراء.
الفتاوى الهندية (1/ 304):
والخلوة الصحيحة أن يجتمعا في مكان ليس هناك مانع يمنعه من الوطء حسا أو شرعا أو طبعا، كذا في فتاوى قاضي خان.واللہ اعلم
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس