بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

تنبیہ کی غرض سے دی گئی طلاق کا حکم

سوال

اگر میری نیت صرف خبردار کرنے کی نیت سے تھی تو اس کا کوئی فقہی اثر ہو گا کیوں کہ میرا یہ عمل غلط مہیا کردہ معلومات کی بنیاد پر تھا۔

جواب

طلاق اگر صریح الفاظ کے ساتھ ہو اگر چہ تنبیہ کی غرض سے دی جائے بہر حال واقع ہو جاتی ہے ۔
الفتاوى الهندية (1/ 473)
وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية.
الفتاوى الهندية (1/ 353)
يقع طلاق كل زوج إذا كان بالغا عاقلا سواء كان حرا أو عبدا طائعا أو مكرها كذا في الجوهرة النيرة ‘‘واللہ اعلم
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس