میرے چھوٹے بھائی عبید اللہ نے اپنی بیوی کو، جو ناراض ہو کر اپنے والدین کے گھر گئی ہوئی تھی، ایک وائس میسج کے ذریعے تین طلاقیں اس طرح دیں کہ:ایک طلاق آج ہے آپ کو ،دوسری طلاق اگلے دن مغرب کے بعد،تیسری طلاق اس سے اگلے دن مغرب کے بعد۔ اس صورت میں صرف ایک طلاق واقع ہوئی ہے یا تینوں طلاقیں نافذ ہو گئی ہیں؟ نیز، چونکہ ان کی پانچ چھوٹی چھوٹی بیٹیاں ہیں، اس لیے کیا دونوں کے درمیان رجوع یا صلح کی گنجائش موجود ہے؟
سعودی عرب میں مفتی قمر منیر (مدینہ یونیورسٹی کے فارغ التحصیل) نے رائے دی ہے کہ صرف ایک طلاق واقع ہوئی ہے۔ ان کے مطابق پہلی طلاق کے بعد عورت نکاح سے نکل گئی، اس لیے بعد میں مقرر کیے گئے اوقات پر دوسری اور تیسری طلاق واقع نہیں ہو سکتیں، کیونکہ اس وقت وہ شوہر کی بیوی نہیں رہی تھی۔ لہٰذا ان کے نزدیک عدت کے اندر رجوع ممکن ہے۔ تاہم انہوں نے مزید اطمینان کے لیے پاکستان سے بھی فتویٰ لینے کا مشورہ دیا۔
ٍصورتِ مسئولہ میں آپ کے بھائی کی بیوی پر تین طلاق واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو چکی ہے۔ دونوں میاں بیوی ایک دوسرے کے لیے حرام ہوچکے ہیں اور اب آپ کے بھائی کو رجوع کا حق حاصل نہیں ۔ البتہ تحلیل شرعی کے بعدمیاں بیوی نکاح کر سکتے ہیں جس کی صورت یہ ہے کہ تیسری طلاق کے بعد مذکورہ خاتون عدت گزارنے کے بعد کسی اور مرد سے نکاح کر لے اور ازدواجی تعلق بھی قائم کرلے، پھر اس کے بعد اس دوسرے شوہر کا انتقال ہوجائے یا وہ اتفاقی طور پر طلاق دے دے تو عدت گزارنے کے بعد وہ عورت پہلے شوہر کے لیے حلال ہوجائے گی ، تاہم تحلیل کی شرط کے ساتھ دوسری جگہ نکاح کرنا ناجائز اور گناہ کبیرہ ہے۔
واضح رہے کہ قرآن کریم احادیث مبارکہ اور فقہ اسلامی کی روشنی میں یہ بات واضح ہے کہ ” ایک طلاق رجعی دینے کے بعد جب تک عورت کی عدت(تین حیض ) باقی ہو ملکیت ِ نکاح زائل نہیں ہوتی ،دونوں کا نکاح برقرار رہتا ہے ، اور جب تک نکاح برقرار ہے شوہر مزید طلاقیں دینا چاہے تو دے سکتا ہے ” ۔ نیز شوہر کا بیوی کو ایک یا دو طلاق رجعی دینے کے بعد شرعاً بغیر نکاح کے رجوع کا حق حاصل ہونا بھی اس بات کی علامت ہے کہ دونوں کے درمیان میاں بیوی کا رشتہ برقرار ہے ۔
لہذایہ کہنا کہ” ایک طلاق کے بعد بیوی نکاح سے نکل گئی اور ان کے درمیان خاوند اور بیوی والا رشتہ ختم ہوگیا ، اس وجہ سے دوسری اور تیسری طلاقیں واقع ہی نہیں ہوئیں ” نصوص شرعیہ کی رو سے درست نہیں ۔
کما قال الله تعالي:
الطلاق مرتان فإمساك بمعروف أو تسريح بإحسان (البقرة:228)
سنن الترمذي (2/ 470):
عن سالم، عن أبيه، أنه طلق امرأته في الحيض، فسأل عمر النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: مره فليراجعها، ثم ليطلقها طاهرا أو حاملا.حديث يونس بن جبير، عن ابن عمر حديث حسن صحيح، وكذلك حديث سالم، عن ابن عمر، وقد روي هذا الحديث من غير وجه عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم، والعمل على هذا عند أهل العلم من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم: أن طلاق السنة أن يطلقها طاهرا من غير جماع، وقال بعضهم: إن طلقها ثلاثا وهي طاهر فإنه يكون للسنة أيضا.وهو قول الشافعي، وأحمد بن حنبل.وقال بعضهم: لا تكون ثلاثا للسنة إلا أن يطلقها واحدة واحدة.وهو قول سفيان الثوري، وإسحاق. وقالوا في طلاق الحامل: يطلقها متى شاء.وهو قول الشافعي، وأحمد، وإسحاق.وقال بعضهم: يطلقها عند كل شهر تطليقة.
فتح المنعم شرح صحيح مسلم (6/ 55)
وأخطأ عبد الله بن عمر فطلق امرأته في الحيض، وعلم بذلك أبوه عمر – رضي الله عنهما – ولم يدر ماذا عليه وقد أخطأ وفعل هذا الممنوع؟ فسأل رسول الله صلى الله عليه وسلم. قال: يا رسول الله، إن عبد الله بن عمر طلق امرأته وهي حائض، فغضب صلى الله عليه وسلم لهذه المخالفة التي وقعت من أشد الصحابة حرصًا على الاقتداء برسول الله صلى الله عليه وسلم، وصغيرة الكبير كبيرة، غضب حتى تغيظ صلى الله عليه وسلم، وقال لعمر: مر ابنك عبد الله أن يراجعها، ثم ليمسكها عنده بقية حيضتها، ثم يظل ممسكًا لها طهرًا بعد حيضها، ثم حيضًا آخر، فإذا طهرت بعد الحيضة الثانية، وكان مصرًا على طلاقها، فليطلقها طاهرًا قبل أن يجامعها، فتلك الحالة هي التي أذن الله للرجال أن يطلقوا فيها النساء.
التفسير المظهري (1/ 300)
وقيل المراد بالطلاق التطليق والمعنى ان التطليق الشرعي تطليقة بعد تطليقة على التفريق فى الاطهار دون الجمع.
تفسير ابن كثير (1/ 611)
وقوله: {فإمساك بمعروف أو تسريح بإحسان} أي: إذا طلقتها واحدة أو اثنتين، فأنت مخير فيها ما دامت عدتها باقية، بين أن تردها إليك ناويا الإصلاح بها والإحسان إليها، وبين أن تتركها حتى تنقضي عدتها.
المبسوط للسرخسي (6/ 19):
(قال) ، وإذا طلقها واحدة في الطهر أو في الحيض أو بعد الجماع فهو يملك الرجعة مادام في العدة لأن النبي – صلى الله عليه وسلم – «طلق سودة – رضي الله تعالى عنها – بقوله اعتدي ثم راجعها» «وطلق حفصة – رضي الله عنها – ثم راجعها بالوطء» ويستوي إن طالت مدة العدة أو قصرت لأن النكاح بينهما باق ما بقيت العدة وقد روي أن علقمة – رضي الله عنه – طلق امرأته فارتفع حيضها سبعة عشر شهرا ثم ماتت فورثه ابن مسعود – رضي الله عنه – منها وقال إن الله تعالى حبس ميراثها عليك فإذا انقضت العدة قبل الرجعة فقد بطل حق الرجعة وبانت المرأة منه، وهو خاطب من الخطاب يتزوجها برضاها إن اتفقا على ذلك.
بدائع الصنائع (3/ 180):
أما الطلاق الرجعي فالحكم الأصلي له هو نقصان العدد، فأما زوال الملك، وحل الوطء فليس بحكم أصلي له لازم حتى لا يثبت للحال .واللہ اعلم