بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

غلط مسئلہ بتانے کی بنیاد پر تین مرتبہ دی گئی طلا ق کا حکم

سوال

میں نے اپنی بیوی کو پہلی بار طلاق 2013 میں دی تھی اور ایک ماہ کے اندر رجوع کر لیا تھا اور ازدواجی تعلق قائم کیا۔ اس کے بعد دوسری مرتبہ 2018 میں طلاق دی اور ایک ماہ کے اندر رجوع کر لیا لیکن رجوع سے پہلے ایک عالم سے رائے مانگی اس نے ایک مفتی صاحب سے پوچھا اور مجھے بتایا کہ میں رجوع کر سکتا ہوں اور ساتھ یہ بھی کہا کہ میری پچھلی طلاق ختم ہو گئی ہے اور میرے پاس تینوں طلاق کا اختیار باقی ہے۔
پھر میں 6 مارچ2026 کو تنبیہ کی غرض اور نیت سے اسے تیسری طلاق دی میری نیت صرف اسے خبردار کرنے کی تھی میں نے یہ طلاق اس عالم کی بات پر کہ میری پہلی طلاقیں ختم ہو گئی ہیں۔ اور میرے پاس رجوع کا اختیار ہے دی۔
تیسری طلاق دینے کے بعد بھی میں نے اس عالم سے پوچھا تو اس نے یہ کہا کہ آپکی طلاق نہیں ہوئی۔ بعدمیں ایک مفتی صاحب سے پتہ چلا کہ طلاق ہو گئی ہے میں پھر اس عالم کو کہا کہ کنفرم کرے تو اس نے اپنے مفتی صاحب سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ طلاق واقع ہو گئی ہے تو اس عالم نے اپنی غلط فہمی پر مجھ سے معذرت کی۔
کیا میرے پاس رجوع کی کوئی صورت ہے؟کیا دوبارہ نکاح ممکن ہےاگر نہیں تو کس صورت میں ممکن ہو گا؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں آپ کی بیوی پر تین طلاق واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے ،اب آپ کو رجوع کا حق حاصل نہیں ۔البتہ تحلیل شرعی کے بعد آپ اس سے نکاح کر سکتے ہیں جس کی صورت یہ ہے کہ تیسری طلاق کے بعد مذکورہ خاتون عدت گزارنے کے بعد کسی اور مرد سے نکاح کر لے اور ازدواجی تعلق بھی قائم کرلے، پھر اس کے بعد اس دوسرے شوہر کا انتقال ہوجائے یا وہ اتفاقی طور پر طلاق دے دے تو عدت گزارنے کے بعد وہ عورت آپ کے لیے حلال ہوجائے گی ، تاہم تحلیل کی شرط کے ساتھ دوسری جگہ نکاح کرنا ناجائز اور گناہ کبیرہ ہے۔
الفتاوى الهندية (1/ 473)
وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية.
الفتاوى الهندية (1/ 353)
يقع طلاق كل زوج إذا كان بالغا عاقلا سواء كان حرا أو عبدا طائعا أو مكرها كذا في الجوهرة النيرة ‘‘واللہ اعلم
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس