بیرونی ممالک میں بعض ادویات میں “جلاٹین” (Gelatin)نامی ایک مرکب استعمال ہوتا ہے۔ اس کے بارے میں مجھے مکمل معلومات تو نہیں، تاہم انٹرنیٹ پر دستیاب معلومات کے مطابق یہ عموماً جانوروں کی ہڈیوں کی جھلی سے بنتا ہے، جنہیں پگھلا کر تیار کیا جاتا ہے۔
میرا سوال یہ ہے کہ ایسی ادویات کا استعمال، خصوصاً وہ کیپسول جن کا بیرونی خول جلاٹین سے بنایا جاتا ہے، کس حد تک جائز ہے؟ خاص طور پر اگر یہ جلاٹین حلال جانوروں (جیسے گائے یا بکری) سے حاصل کیا گیا ہو، لیکن وہ جانور شرعی طریقے سے ذبح نہ کیے گئے ہوں، تو کیا اس صورت میں ان ادویات کا استعمال جائز ہوگا؟ البتہ اگر جلاٹین حرام جانور (مثلاً خنزیر) سے حاصل کیا گیا ہو تو اس کے عدمِ جواز میں کوئی شک نہیں۔ مزید یہ کہ اگر تھوڑی مقدار میں یہ مرکب ادویات میں شامل ہو، تو کیا اس کی گنجائش ہوگی، بشرطیکہ اس میں کسی صریح نافرمانیِ الٰہی کا پہلو نہ ہو؟
براہِ کرم اس مسئلے کے بارے میں اپنی قیمتی رائے سے آگاہ فرمائیں۔ نیز اگر اس موضوع پر مفتی محمد تقی عثمانی صاحب یا دیگر اہلِ علم کی کوئی مستند تحقیق یا فتویٰ موجود ہو تو اس سے بھی مطلع فرما دیں۔ اگر آپ یا دیگر اہلِ علم کی آراء میں اختلاف ہو تو اس کی وضاحت بھی فرما دیں۔
آخر میں یہ وضاحت بھی کر دوں کہ جلاٹین صرف ہڈیوں ہی سے نہیں، بلکہ جانوروں کی کھال اور دیگر بافتوں سے بھی تیار کیا جاتا ہے۔
واضح رہے کہ جلاٹین پروٹین سے بنا ہوا ایک شفاف مادہ ہے جو جانور کی کھال، ہڈی ،اتصالی ریشے اور نباتات سے تیار کیا جاتاہے جس کا بنیادی کام ادویات اور غذائی اشیاء میں گاڑھاپن اور جماؤ پیدا کرنا ہے۔ جلاٹین اور اس پر مشتمل اشیاء کی حلت وحرمت کا مدار اس کے ماخذ پر ہے۔
نمبر۱۔لہذا جو جلاٹین حلال اورمذبوحہ (شرعی طریقہ سے ذبح کیے ہوئے)جانور کی کھال، ہڈیوں یا نباتات سے تیار کیا گیا ہووہ حلال ہے اور اس کا ہر طرح استعمال جائز ہے۔
نمبر۲۔ حرام اور غیر مذبوحہ جانور کی کھال سے بنایا گیا جلاٹین کیمیائی عمل میں دباغت اور ناپاک رطوبات کے زائل ہونے کی وجہ سے صرف پاک ہوگا، حلال نہیں؛ یعنی اس کا صرف بیرونی استعمال جائز ہے، کھانا جائز نہیں۔ البتہ صرف علاج و معالجہ کی صورت میں، مسلمان ماہر اطباء کی رائے کے مطابق اگر کوئی اور متبادل دستیاب نہ ہو تو اس کے استعمال کی گنجائش ہے۔
نمبر۳۔ غیر مذبوحہ جانور کی صرف ہڈیوں سے بنایا گیا جلاٹین پاک اور حلال ہے، کیونکہ ان کے اوپر سے ناپاک رطوبات زائل ہو جاتی ہیں اور ان میں حیات بھی نہیں ہوتی۔ اور حرام جانور کی ہڈیوں سے بنایا گیا جلاٹین کیمیائی عمل کی وجہ سے پاک تو ہو جاتا ہوگا، لیکن جانور کے حرام ہونے کی وجہ سے اس کا کھانا جائز نہیں؛ لہٰذا اس کا صرف بیرونی استعمال جائز ہے، داخلی استعمال جائز نہیں۔ البتہ صرف علاج و معالجہ کی صورت میں، اگر کوئی اور متبادل نہ ہو تو اس کے استعمال کی گنجائش ہے۔
نمبر۴۔ خنزیر سے بنایا گیا جلاٹین کا استعمال مطلقا ناجائز اور حرام ہے۔ خنزیر تمام اجزاء سمیت نجس العین ہے تبدیلی ماہیت کے بغیر اس کے کسی بھی جزو سے کسی بھی شکل میں عام حالات میں انتفاع جائز نہیں۔
مذکورہ تفصیل الفقہ الاسلامی جدہ، جمہور علماء اور حضرت مفتی تقی عثمانی صاحب کی تحقیق کے مطابق ہے، اور ہمارے دارالافتاء کی بھی یہی رائے ہے۔ البتہ بعض حضرات، جیسے الفقہ الاسلامی ہند، کے نزدیک جلاٹین بناتے وقت کیمیائی عمل کے باعث اس کی ماہیت تبدیل ہو جاتی ہے، اس لیے جلاٹین اور اس پر مشتمل ادویات کا ہر طرح استعمال جائز ہے۔ (مستفاد: فتاوی عثمانی و فقہ البیوع: مفتی محمد تقی عثمانی، فقہ الحلال: زیر نگرانی مفتی محمد نجیب خان ، جلاٹین تعارف اور اس کا شرعی حکم:مفتی عقیل منیر، حلال وحرام: مفتی سید عابد شاہ، حلال غذا جدید طب اور سائنس: مولانا سر فراز محمد)۔ تاہم آپ کو جس پر اعتماد اور اطمینان ہو آپ اس پر عمل کر سکتے ہیں۔
قال الله تعالى:
{فَكُلُوا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ إِنْ كُنْتُمْ بِآيَاتِهِ مُؤْمِنِينَ } [الأنعام: 118].
قال الله تعالى:
{حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِيرِ وَمَا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ وَالْمُنْخَنِقَةُ وَالْمَوْقُوذَةُ وَالْمُتَرَدِّيَةُ وَالنَّطِيحَةُ وَمَا أَكَلَ السَّبُعُ إِلَّا مَا ذَكَّيْتُمْ وَمَا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ وَأَنْ تَسْتَقْسِمُوا بِالْأَزْلَامِ ذَلِكُمْ فِسْقٌ} [المائدة: 3].
سنن أبي داود (2/ 464)،باب في أهب الميتة:
4123 – عن ابن عباس قال سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول ” إذا دبغ الإهاب فقد طهر ” .
فقہ البیوع، مفتی محمد تقی عثمانی(1/305 تا307) معارف القران:
۱۲۸ – حكم الهلام (جيلاتين):
ومن المناسب هنا ذكر حكم الهلام أو الجيلاتين (Gelatine) وهي مادة سائلة تستعمل في الأدوية وبعض الأغذية، وتتخذ من جلود الحيوانات وعظامها، فإن كانت تلك الحيوانات مأكولة اللحم شرعاً، فلا إشكال فيها، ولكن إن اتخذ الهلام من البقر بدون ذكاة شرعية، كما هو الحال في المركبات الدوائية والغذائية التي تستورد من بلاد غير المسلمين، فإن كان الجيلاتين أخذ من عظامها، فإنه طاهر عند الحنفية، لأن العظام مما لا تحله الحيوة، وما لا تحله الحيوة من أجزاء الميتة طاهر. ” ولذلك جاز بيعه وشراؤه على مذهب الحنفية.
أما الجيلاتين المتخذ من جلود الأنعام غير المذبوحة، فقد ذهب بعض المعاصرين إلى أنه حلال، لأن قطعات الجلود تمر بعمل كيمياوي تنقلب به ماهيتها، فتجل وتظهر بالاستحالة على قول الحنفية. وإنى شاهدت هذه العملية بنفسي في بعض المصانع، فلم يتضح لى أن هذه العملية تكفى للاستحالة، لاشك أنه تحدث فيه بعض التغيرات الكيمياوية، ……وبما أن عظم حيوان غير مذكى طاهر، وأن جلده يطهر بالدباغ، فإن الجيلاتين المتخذ منهما طاهر، ويجوز استعماله في غير الأكل باتفاق الحنفية. أما استعماله في الأكل، فالصحيح المفتى به عند الحنفية أنه لا يجوز، ولكن هناك قول عند الحنفية والشافعية في جواز أكله، ويسوع العمل به للتداوى بالكيبسولات المتخذة من الجيلاتين، بشرط أن لا تكون متخذة من جلد الخنزير أو عظمه. أما في غير التداوي، فينبغي الاجتناب من أكله، ما لم تثبت استحالتها، أما البيع والشراق، فيجوز في غير المتخذ من الخنزير، لأنه طاهر حسبما ذكرناه، والانتفاع به ممکن بطریق مشروع. والله سبحانه وتعالى أعلم.
الفتاوى الهندية (5/ 354)
وقال محمد – رحمه الله تعالى – ولا بأس بالتداوي بالعظم إذا كان عظم شاة أو بقرة أو بعير أو فرس أو غيره من الدواب إلا عظم الخنزير والآدمي فإنه يكره التداوي بهما فقد جوز التداوي بعظم ما سوى الخنزير والآدمي من الحيوانات مطلقا من غير فصل بينما إذا كان الحيوان ذكيا أو ميتا وبينما إذا كان العظم رطبا أو يابسا وما ذكر من الجواب يجري على إطلاقه إذا كان الحيوان ذكيا لأن عظمه طاهر رطبا كان أو يابسا يجوز الانتفاع به جميع أنواع الانتفاعات رطبا كان أو يابسا فيجوز التداوي به على كل حال وأما إذا كان الحيوان ميتا فإنما يجوز الانتفاع بعظمه إذا كان يابسا ولا يجوز الانتفاع إذا كان رطبا وأما عظم الكلب فيجوز التداوي به هكذا قال مشايخنا وقال الحسن بن زياد لا يجوز التداوي به كذا في الذخيرة. الانتفاع بأجزاء الآدمي لم يجز قيل للنجاسة وقيل للكرامة هو الصحيح كذا في جواهر الأخلاطي.قال أبو حنيفة – رحمه الله تعالى – ولا ينتفع من الخنزير بجلده ولا غيره إلا الشعر للأساكفة وقال أبو يوسف – رحمه الله تعالى – يكره الانتفاع أيضا بالشعر وقول أبي حنيفة – رحمه الله تعالى – أظهر كذا في المحيط. وإذا كان برجل جراحة يكره المعالجة بعظم الخنزير والإنسان لأنه يحرم الانتفاع به.واللہ اعلم