بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

کیا امام ابوحنیفہ ؒ کی کرامت ( وضو کے دوران گناہوں کا گرتے دیکھنا )اللہ تعالی کے ستار العیوب ہونے کے منافی نہیں؟

سوال

اللہ تعالٰی تو ستّار العیوب ہیں ، وہ کیسے ایک انسان کے عیب دوسرے کو دکھائے گا؟

جواب

اللہ تعالٰی کا کسی حکمت کے تحت کسی کے عیب کو ظاہر کرنا یا معجزہ اور کرامت کے ذریعے کسی کے حال پر منکشف فرمانا اس کے ستار العیوب ہونے کے منافی نہیں ہے، جیسا کہ واقعات سے معلوم ہوتا ہےکہ اللہ تعالٰی نےستار العیوب ہونے کے باوجودعیوب کو ظاہر کیا ۔ چنانچہ مجمع الزوائد میں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ” بنی اسرئیل میں اللہ تعالی کی طرف سے یہ پکڑ تھی کہ جب بھی کوئی گناہ کرتا تو صبح کے وقت اس کے دروازہ کے اوپر لکھا ہوتا کہ کہ تو نے یہ یہ گنا ہ کیاہے اور اس کا یہ کفارہ ہے ۔
آل عمران (26)
وتعز من تشاء وتذل من تشاء بيدك الخير إنك على كل شيء قدير.
تفسير الطبري (2/ 491)
حدثني به المثنى قال، حدثنا إسحاق قال، حدثنا ابن أبي جعفر، عن أبيه، عن الربيع، عن أبي العالية قال، قال رجل: يا رسول الله، لو كانت كفاراتنا كفارات بني إسرائيل! فقال النبي صلى الله عليه وسلم:”اللهم لا نبغيها! ما أعطاكم الله خير مما أعطى بني إسرائيل، كانت بنو إسرائيل إذا فعل أحدهم الخطيئة وجدها مكتوبة على بابه وكفارتها، فإن كفرها كانت له خزيا في الدنيا، وإن لم يكفرها كانت له خزيا في الآخرة، وقد أعطاكم الله خيرا مما أعطى بني إسرائيل، قال: (وَمَنْ يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللَّهَ يَجِدِ اللَّهَ غَفُورًا رَحِيمًا) [النساء: 110] . قال: وقال:”الصلوات الخمس، والجمعة إلى الجمعة، كفارات لما بينهن”.
مجمع الزوائد (7/ 11)
وعن ابن مسعود رضي الله عنه قال: كان الرجل من بني إسرائيل إذا أذنب أصبح على بابه مكتوب: أذنبت كذا وكذا، وكفارته كذا من العمل، فلعله أن يتكاثره أن يعمله، قال ابن مسعود: ما أحب أن الله عز وجل أعطانا ذلك مكان هذه الآية: {ومن يعمل سوءا أو يظلم نفسه ثم يستغفر الله يجد الله غفورا رحيما} [النساء: 110].رواه الطبراني، ورجاله رجال الصحيح، إلا أن ابن سيرين ما أظنه سمع من ابن مسعود. واللہ اعلم
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس