بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

امام ابو حنیفہ کی کرامت (وضو کے وقت کبیرہ ،صغیرہ گناہوں کو جھڑتے دیکھنا) جبکہ کبیر ہ گناہوں کی معافی کے لیے توبہ شرط ہے؟

سوال

فضائل اعمال میں لکھا ہوا ہے کہ امام ابو حنیفہ ؒ کو گناہ دُھلتے ہوئے دکھائی دیتے تھے مثلاً غیبت وغیرہ جب نمازی نماز کے لیے وضو کرتے تھے یہ ان کی کرامت تھی حالانکہ غیبت ،زنا تو کبیرہ گنا ہ ہے، یہ وضو سے تو کیا غسل سےبھی معاف نہیں ہوتے جب تک بندہ توبہ نہ کرلے۔

جواب

واضح رہے کہ شریعت کا مسلمہ قاعدہ و ضابطہ یہی ہے کہ وضو اور دیگر عبادات سے صرف صغیرہ گناہ ہی معاف ہوتے ہیں ، کبیرہ گناہوں کی معافی کے لیے اللہ تعالٰی سےتوبہ کرنا شرط ہے لیکن اگر وضو کے وقت توبہ اور اس کی شرائط (مثلاً گناہ پر ندامت ،آئندہ گناہ سے بچنے کا عزم)کا مکمل استحضار ہو تو ایسے وضو سے صغائر اور کبائر دونوں گناہوں کا معاف ہونا بعید نہیں ہے ۔
نیز اہل السنت والجماعت کا عقیدہ ہے کہ اولیاء کی کرامات بر حق ہیں اور اللہ تعالٰی قادر ِمطلق ہیں ، اللہ تعالٰی نے اپنی قدرت سے کسی کے کبیرہ گناہ معاف کر دئیے ہوں اور اپنی قدرت کا یہ مظاہرہ اپنے نیک ولی بندے کو کرا دیا ہو۔لیکن شریعت کا مسلمہ قاعدہ و ضابطہ وہی ہے جو اوپر مذکور ہوا ۔
[آل عمران: 129]
يغفر لمن يشاء ويعذب من يشاء والله غفور رحيم.
مشكاة المصابيح (1/ 94)
وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ” إذا توضأ العبد المسلم أو المؤمن فغسل وجهه خرج من وجهه كل خطيئة نظر إليها بعينيه مع الماء مع آخر قطر الماء فإذا غسل رجليه خرج كل خطيئة مشتها رجلاه مع الماء أو مع آخر قطر الماء حتى يخرج نقيا من الذنوب)
مرقاة المفاتيح (1/ 346)
حتى يخرج نقيا من الذنوب) أي: ذنوب أعضاء الوضوء أو جميع الذنوب من الصغائر
مرقاة المفاتيح (1/ 347)
وقال العلماء: إن هذا الحديث وما أشبهه صالح للتكفير فإن وجد ما يكفره من الصغائر كفره، وإن صادف كبيرة ولم يصادف صغيرة يعني غير مكفرة رجونا أن يخفف من الكبائر وإلا كتب له به حسنات ورفع به درجات، كذا ذكره الطيبي. واللہ اعلم
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس