اللہ تعالی ہر جگہ اپنی شان کے لائق موجود ہیں اس کے علم و قدرت سے کوئی شے اور کوئی جگہ باہر نہیں ہے۔ اللہ تعالی کی موجودگی کے لیے مکان اور جگہ کا ہونا لازمی نہیں ہے اور اللہ تعالی کی ذات انسانی صفات سے پاک اور منزہ ہے۔ لہذا اللہ تعالی کی ذات کو اپنی عقل کے معیار کے مطابق سمجھنا یا انسانی اصولوں پر پر کھنا غلطی اور واضح گمراہی کا سبب ہے۔ اس سے بچنا لازم ہے۔
الفقه الأكبر (ص: 26) الفرقان:
وهو شيء لا كالأشياء ومعنى الشيء الثابت بلا جسم ولا جوهر ولا عرض.
فتح الباري (13/345) دار المعرفة:
وقال ابن بطال تضمنت ترجمة البنات أن الله ليس بجسم لأن الجسم مركب من اشياء مؤلفة و ذلك يرد على الجهمية في زعمهم أنه جسم.
شرح العقائد النسفية ( ص : ۳۸) قديمي:
(ولا جسم ) لأنه متركب ومتحيز وذلك إمارة الحدوث.
شرح الفقه الأكبر (ص:16) قديمي:
فالله تعالى عالم بجميع الموجودات لا يعزب عن علمه مثقال ذرة في العلويات والسفليات، وأنه تعالى يعلم الجهر والسر وما يكون أخفى منه من المغيبات ، بل أحاط بكل شيء علما من الجزئيات والكليات والموجودات والمعلومات والممكنات والمستحيلات، فهو بكل شيء عليم من الذوات والصفات بعلم قديم لم يزل موصوفاً به على وجه الكمال، لا بعلم حادث حاصل في ذاته بالقبول والانفعال والتغير والانتقال، تعالى الله عن ذلك شانه و تعظم عمانها یک برهانه.