بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

گاؤں میں جمعہ کی نماز کا حکم

سوال

شہر ہم سے 25 کلومیٹر دور ہے، یہاں کوئی خاص دکانیں سہولت نہیں۔ 3 مساجد موجود ہیں کچھ لوگ سواری والے جمعہ پڑھنے شہر جاتے ہیں یہاں بھی جمعہ کی نماز ہوتی ہے۔ ہم تشویش میں ہیں کہ کیا ہم ظہر پڑھیں یا جمعہ؟

جواب

گاؤں میں جمعہ کی نماز کا حکم

صورت مسئولہ میں اگر وہ چھوٹا گاؤں ہے اور ضروریاتِ زندگی بھی میسر نہیں اور آبادی بھی کم ہے تو وہاں کے لوگوں پر جمعہ واجب نہیں لہٰذا ان کو چاہیے کہ صرف ظہر کی نماز پڑھیں اور جمعہ کی نماز نہ پڑھیں اس لیے کہ وہاں جمعہ کی شرائط موجود نہیں۔
البحرالرائق،العلامة ابن نجيم المصري(م:970هـ)(2/ 151) دار الكتاب الإسلامي
(قوله شرط أدائها المصر) أي شرط صحتها أن تؤدى في مصر حتى لا تصح في قرية، ولا مفازة لقول علي – رضي الله عنه – لا جمعة، ولا تشريق، ولا صلاة فطر، ولا أضحى إلا في مصر جامع أو في مدينة عظيمة رواه ابن أبي شيبة وصححه ابن حزم وكفى بقوله قدوة وإماما، وإذا لم تصح في غير المصر فلا تجب على غير أهله
ردالمحتار،العلامة ابن عابدين الشامي(م:1252هـ)  (2/ 138) دارالفکر
 لا تجوز في الصغيرة التي ليس فيها قاض ومنبر وخطيب كما في المضمرات والظاهر أنه أريد به الكراهة لكراهة النفل بالجماعة؛ ألا ترى أن في الجواهر لو صلوا في القرى لزمهم أداء الظهر
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس