بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

امام سے پہلے سلام پھیرنے والے مقتدی کی نماز کا حکم

سوال

ایک شخص امام کے پیچھے نماز پڑھ رہا تھا کہ قعدہ اخیرہ میں بھول کر امام سے پہلے سلام پھیر دیا اور کھڑا ہو کر دوسری نماز کی نیت باندھ لی پھر اس کو یاد آیا کہ وہ نماز میں امام کے ساتھ تھا، اور واپس آگیا۔ آیا اس شخص کی نماز ہوگئی یا واجب الاعادہ ہے؟

جواب

مقتدی کا امام کے ساتھ قعدہ اخیرہ میں اتنے وقت کے لئے شریک ہو نا فرض ہے جتنی دیر میں تشہد پڑھی جاتی ہے ، اس کے بعد اگر مقتدی سلام پھیر دے تو اس کی نماز ہو جائے گی لیکن بلا عذر ایسا کرنا مکروہ ہے۔ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں جس مقتدی نے امام سے پہلے سلام پھیر کر دوسری نماز شروع کی اگر اس نے امام کے ساتھ قعدہ اخیرہ میں فرض کی مقدار بیٹھنے کے بعد سلام پھیرا ہو تو اس صورت میں اس کی نماز ہوگئی اور اگر فرض کی مقدار بیٹھنے سے پہلے سلام پھیرا تو اس کی نماز نہیں ہوئی اس کا اعادہ ضروری ہے۔
ردالمحتار،العلامة ابن عابدين الشامي(م:1252هـ)(1/ 472) دارالفكر
(قوله وإنما تفسد) أي الصلاة بمخالفته في ا لفروض المراد بالمخالفة هنا عدم المتابعة أصلا بأنواعها ا لثلاث ا لمارة، والفساد في الحقيقة إنما هو بترك ا لفرض لا بترك المتابعة، لكن أسند إليها لأنه يلزم منها تركه، وخص الفرض لأنه لا فساد بترك الواجب أو السنة (قوله في الخزائن) ونصه: وجوب المتابعة ليس على إطلاقه، بل هي تارة تفرض وتارة تجب وتارة لا تجب… وفي البحر: المخالفة فيما هو من الأركان أو الشرائط مفسدة لا في غيرها
ردالمحتار،العلامة ابن عابدين الشامي(م:1252هـ)(1/ 525) دارالفكر
 (قوله لو أتمه إلخ) أي لو أتم المؤتم التشهد، بأن أسرع فيه وفرغ منه قبل إتمام إمامه فأتى بما يخرجه من الصلاة كسلام أو كلام أو قيام جاز: أي صحت صلاته لحصوله بعد تمام الأركان لأن الإمام وإن لم يكن أتم التشهد لكنه قعد قدره لأن المفروض من القعدة قدر أسرع ما يكون من قراءة التشهد وقد حصل، وإنما كره للمؤتم ذلك لتركه متابعة الإمام بلا عذر، فلو به كخوف حدث أو خروج وقت جمعة أو مرور مار بين يديه فلا كراهة
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس