ایک گاؤں کی مرکزی مسجد ہے جس میں ایک ناظرہ خواں نوجوان مذہبی سوچ رکھنے والے کو مسجد کا امام متعین کیا گیا ہے جو ہر نماز میں سورۃ الفیل اورسورۃ الکوثر پڑھتا ہے اس کے علاوہ کوئی سورت نہیں پڑھتا۔ اور سورۃ الکوثر میں دو غلطی کرتا ہے پہلی اِنّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ میں اِنّا کے لفظ کو لمبا کر کے پڑھنا چاہیے اور وہ اس کو اِن پڑھتا ہے۔ دوسری غلطی أَعْطَيْنَاكَ میں اَعْطَيْنَ پڑھتا ہے اس کو اس غلطی کے بارے میں ایک عالم صاحب نے کئی بار بتایا بھی کہ اس کو درست کر لو اس سے ترجمہ غلط بنتا ہے لیکن وہ درست نہیں کرتا آیا ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟
درست قرأت نہ کرنے والے امام کا امامت کرنا
صورتِ مسئولہ میں گاؤں والوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ کسی ایسے شخص کو امام مقرر کریں جو نماز کے مسائل سے واقف ہونے کے ساتھ ساتھ قراءت بھی صحیح کر سکتا ہو۔ نیز اسے قرآن کریم کی معتد بہ مقدار یاد ہو، لہٰذا مذکورہ صورت میں جب امام کو غلطی سے بار بار آگاہ کیے جانے کے باوجود غلطی کرتا ہے اور اپنی غلطی کی اصلاح نہیں کرتا تو پھر اسے امام نہ بنایا جائے۔
الفتاوی الہندیۃ،لجنةالعلماء برئاسة نظام الدين البلخي (1/ 86) دارالفکر
ولا يجوز إمامة الألثغ الذي لا يقدر على التكلم ببعض الحروف إلا لمثله إذا لم يكن في القوم من يقدر على التكلم بتلك الحروف فأما إذا كان في القوم من يقدر على التكلم بها فسدت صلاته وصلاة القوم
الفتاوی التاتارخانیة،العلامةفرید الدین الدهلوی (م:786هـ) (2/102) فاروقیة
فأما إذا لم يكن على وجه الإيجاز والترخيم، فان كان لا يغير المعنى لا تفسد صلاته نحو أن يقرأ “ولقد جاء هم رسلنا بالبينت” بترك التاء من جاء تهم… وإن غير المعنى تفسد صلاته عند عامة المشايخ… وفي الخانية: فان حذف حرفا أصليا من كلمة، فتغير المعنى، تفسد صلاته في قول أبي حنيفة ومحمد رحمهما الله
فتاوی قاضی خان،فخرالدين الحسن بن منصور (م:592ه) (1/137)رشیدية
وإن نقص حرفاً عن كلمة إن لم يتغير المعنى لا تفسد صلاته في قولهم كما لو قرأ ولقد جاءتهم رسلنا بالبينات ولقد جاءهم بحذف التاء، …وإن حذف حرفاً أصلياً من كلمة فتغير المعنى تفسد صلاته في قول أبي حنيفة ومحمد رحمهما الله تعالى