بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

رضاعی والد حقیقی والد نہیں/نکاح نامہ میں والد کے خانہ میں غیر والدکا نام نہیں لکھوا یا جاسکتا/لے پالک بیٹے کے نکاح میں حقیقی والد کی ولدیت ظاہر نہ کرنے کا حکم

سوال

مجھے نکاح کے بارے میں کچھ شک ہے۔ میرے ماموں نے پیدائش کے وقت ہی میرے بھائی کو گود لیا ، اور میرے ماموں کی بیوی نے اسے دودھ پلایا۔
نمبر1۔ کیا میرا ماموں میرے بھائی کا حقیقی باپ ہوسکتا ہے؟
نمبر2۔کیا میرا ماموں نکاح نامہ میں میرے بھائی کے حقیقی والد کے طور پر اپنا نام لکھ سکتا ہے؟
نمبر3۔میرے بھائی کے نکاح میں ، اگر ولدیت کا جان بوجھ کر اعلان نہیں کیا گیا تو کیا یہ نکاح ہوگا؟

جواب

نمبر1۔صورتِ مسئولہ میں آپ کا ماموں آپ کے مذکورہ بھائی کا رضاعی والد ہے، حقیقی باپ نہیں۔
نمبر2۔ ماموں آپ کے بھائی کے نکاح نامہ میں حقیقی والد کی جگہ اپنا نام نہیں لکھو اسکتا۔
نمبر3۔ نکاح کے ایجاب و قبول میں اگر اشتباہ کا خطرہ نہ ہو تو لڑکے کے والد کا نام لینا کوئی ضروری نہیں لہذا اگر آپ کے بھائی کے نکاح میں صرف اسی کا نام لیا گیا اور وہ خود مجلس نکاح میں موجود تھا تو نکاح ہو گیا۔
بدائع الصنائع،العلامة علاءالدين الكاساني(م:587هـ) (4/ 3)العلمية
الأصل في هذه الجملة قول النبي – صلى الله عليه وسلم – «يحرم من الرضاع ما يحرم من النسب» فيجب العمل بعمومه إلا ما خص بدليل.وأما الحرمة في جانب زوج المرضعة التي نزل لها منه لبن فثبتت عند عامة العلماء وعامة الصحابة – رضي الله عنهم
ردالمحتار،العلامة ابن عابدين الشامي(م:1252هـ) (3/ 22)سعيد
والحاصل أن الغائبة لا بد من ذكر اسمها واسم أبيها وجدها، وإن كانت معروفة عند الشهود على قول ابن الفضل، وعلى قول غيره يكفي ذكر اسمها إن كانت معروفة عندهم، وإلا فلا وبه جزم صاحب الهداية في التجنيس وقال لأن المقصود من التسمية التعريف وقد حصل
ردالمحتار،العلامة ابن عابدين الشامي(م:1252هـ) (3/ 15)سعيد
(قوله: ولا المنكوحة مجهولة) …قلت: وظاهره أنها لو جرت المقدمات على معينة وتميزت عند الشهود أيضا يصح العقد وهي واقعة الفتوى؛ لأن المقصود نفي الجهالة، وذلك حاصل بتعينها عند العاقدين والشهود، وإن لم يصرح باسمها …فإن عرفها الشهود وعلموا أنه أرادها كفى ذكر اسمها، وإلا لا بد من ذكر الأب والجد
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء الاحسان

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ، لاہور

شرعی مسائل میں رہنمائی حاصل کیجیے

اپنے دینی و شرعی مسائل کے حل کے لیے
دارالافتاء کے مستند مفتیانِ کرام سے
رہنمائی حاصل کیجیے۔ اپنا سوال واٹس ایپ
کے ذریعے ارسال فرمائیں۔


واٹس ایپ پر اپنا شرعی سوال ارسال کریں

0309-7759396
قرآن و سنت کی روشنی میں شرعی رہنمائی