ایک لڑکا اور لڑکی جو عاقل بالغ ہیں۔ دونوں نے اپنی مرضی سے عدالت میں نکاح کر کے اپنے علاقے سے بہت دور رہائش پذیر ہو گئے ہیں۔ دونوں کے والدین انکے اس طرزِ نکاح پر راضی نہ تھے اور نہ ہی انکو پہلے سے اسکی خبر تھی۔ بعد ازاں لڑکے اور لڑکی دونوں کے خاندانوں کے مابین جرگہ ہوا ۔ اورجرگہ والوں نے لڑکے کے والدین پر 5 لاکھ روپے جرمانہ مقرر کیا ۔ اور لڑکے کے والدین نے یہ رقم ثالثین کے پاس جمع کروادی۔ مگرلڑکی کے خاندان والوں نے وہ رقم نہیں لی ، اور پھر یہ رقم واپس لڑکے کے والد کو دے دی ۔اب لڑکے کے خاندان والوں کو برادری میں ہر غمی خوشی میں شرکت سے اور نمازِ جنازہ میں شرکت سے روکا جا رہا ہے اور ان سے سوشل بائیکاٹ کر رہے ہیں۔ جبکہ لڑکے کے خاندان والے ہر شرعی و عرفی حکم کو تسلیم کرنے کیلئے ، دوبارہ جرگہ میں بیٹھنے کیلئے تیار ہیں ۔ آیا اس مسئلہ کی بناء پر اس قسم کا قطع تعلق کرنا جائز ہے ؟ اور یہ قطع رحمی کے زمرے میں داخل ہے یا نہیں ؟
اولاد کے لیے اپنے والدین کی سرپرستی کے بغیر خود ہی جاکر عدالت میں نکاح کر لینا شرعا پسندیدہ عمل نہیں ۔بلکہ بعض صورتوں میں نکاح سرے سے منعقد ہی نہیں ہوتا ،لہٰذا اولاد کو چاہیے کہ وہ رشتوں کے سلسلے میں اپنے بڑوں کی رائے کا احترام کریں اور ان کی سرپرستی میں شادی کریں۔ لیکن اگر وہ ایسا کوئی اقدام کر لیتے ہیں تو ایسی صورت میں لڑکے کے خاندان پر جرمانہ عائد کرنا اور ان سے بائیکاٹ کرنا درست نہیں؛ کیونکہ ایک تو لڑکے کے عمل کی سزا اس کے خاندان پر ڈالنا درست نہیں اور دوسرے یہ کہ اگر خاندانوں کو ہی مجرم ٹھہرانا ہے تو لڑکی کے خاندان کو کیوں مجرم نہیں ٹھہرایا جارہا ؟جبکہ لڑکی بھی اس اقدام میں برابر کی شریک ہے۔ اس لیے جُرمانہ وصول کرنے یا بائیکاٹ کرنے کے بجائے اس طرح کے اقدامات کی روک تھام کا طریقہ یہ ہے کہ بچوں ، بچیوں کے لیے مناسب رشتہ ملنے پر بلا وجہ ان کی شادی میں تاخیر نہ کی جائے اور والدین اپنی انا یا معاشرے کے طعنوں کو رکاوٹ نہ بنائیں، بلکہ اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے بہتر رشتوں کو رد نہ کریں۔