بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

کورٹ میرج کرنے کی صورت میں لڑکے کے خاندان والوں سے قطع تعلق کرنا اور ان پرجرمانہ ڈالنا

سوال

ایک لڑکا اور لڑکی جو عاقل بالغ ہیں۔ دونوں نے اپنی مرضی سے عدالت میں نکاح کر کے اپنے علاقے سے بہت دور رہائش پذیر ہو گئے ہیں۔ دونوں کے والدین انکے اس طرزِ نکاح پر راضی نہ تھے اور نہ ہی انکو پہلے سے اسکی خبر تھی۔ بعد ازاں لڑکے اور لڑکی دونوں کے خاندانوں کے مابین جرگہ ہوا ۔ اورجرگہ والوں نے لڑکے کے والدین پر 5 لاکھ روپے جرمانہ مقرر کیا ۔ اور لڑکے کے والدین نے یہ رقم ثالثین کے پاس جمع کروادی۔ مگرلڑکی کے خاندان والوں نے وہ رقم نہیں لی ، اور پھر یہ رقم واپس لڑکے کے والد کو دے دی ۔اب لڑکے کے خاندان والوں کو برادری میں ہر غمی خوشی میں شرکت سے اور نمازِ جنازہ میں شرکت سے روکا جا رہا ہے اور ان سے سوشل بائیکاٹ کر رہے ہیں۔ جبکہ لڑکے کے خاندان والے ہر شرعی و عرفی حکم کو تسلیم کرنے کیلئے ، دوبارہ جرگہ میں بیٹھنے کیلئے تیار ہیں ۔ آیا اس مسئلہ کی بناء پر اس قسم کا قطع تعلق کرنا جائز ہے ؟ اور یہ قطع رحمی کے زمرے میں داخل ہے یا نہیں ؟

جواب

اولاد کے لیے اپنے والدین کی سرپرستی کے بغیر خود ہی جاکر عدالت میں نکاح کر لینا شرعا پسندیدہ عمل نہیں ۔بلکہ بعض صورتوں میں نکاح سرے سے منعقد ہی نہیں ہوتا ،لہٰذا اولاد کو چاہیے کہ وہ رشتوں کے سلسلے میں اپنے بڑوں کی رائے کا احترام کریں اور ان کی سرپرستی میں شادی کریں۔ لیکن اگر وہ ایسا کوئی اقدام کر لیتے ہیں تو ایسی صورت میں لڑکے کے خاندان پر جرمانہ عائد کرنا اور ان سے بائیکاٹ کرنا درست نہیں؛ کیونکہ ایک تو لڑکے کے عمل کی سزا اس کے خاندان پر ڈالنا درست نہیں اور دوسرے یہ کہ اگر خاندانوں کو ہی مجرم ٹھہرانا ہے تو لڑکی کے خاندان کو کیوں مجرم نہیں ٹھہرایا جارہا ؟جبکہ لڑکی بھی اس اقدام میں برابر کی شریک ہے۔ اس لیے جُرمانہ وصول کرنے یا بائیکاٹ کرنے کے بجائے اس طرح کے اقدامات کی روک تھام کا طریقہ یہ ہے کہ بچوں ، بچیوں کے لیے مناسب رشتہ ملنے پر بلا وجہ ان کی شادی میں تاخیر نہ کی جائے اور والدین اپنی انا یا معاشرے کے طعنوں کو رکاوٹ نہ بنائیں، بلکہ اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے بہتر رشتوں کو رد نہ کریں۔
البحرالرائق،العلامة ابن نجيم المصري(م:970ھـ) (3/ 118)رشیدیۃ
وروى الحسن أنه إن كان الزوج كفؤا نفذ نكاحها وإلا فلم ينعقد أصلا وفي المعراج معزيا إلى قاضي خان وغيره والمختار للفتوى في زماننا رواية الحسن وفي الكافي والذخيرة
   المحيط البرهاني،أبوالمعالي برهان الدين محمودبن أحمد(م:616هـ)(3/ 46) دار الكتب العلمية
البالغة العاقلة لوزوجت نفسها من رجل هو كفء لها أو ليس بكفء لها نفذ النكاح في ظاهر رواية أبي حنيفة  رحمه الله وهو قول أبي يوسف رحمه الله آخراً، لا أن الزوج إذا لم يكن كفئاً فللأولياء حق الاعتراض
البحرالرائق،العلامة ابن نجيم المصري(م:970هـ)(۵/۴۴)رشیدیۃ
أن معنى التعزير بأخذ المال على القول به إمساك شيء من ماله عنه مدة لينزجر ثم يعيده الحاكم إليه لا أن يأخذه الحاكم لنفسه أو لبيت المال كما يتوهمه الظلمة إذ لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي  وفي المجتبى لم يذكر كيفية الأخذ وأرى أن يأخذها فيمسكها فإن أيس من توبته يصرفها إلى ما يرى وفي شرح الآثار  التعزير بالمال كان في ابتداء الإسلام ثم نسخ
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء الاحسان

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ، لاہور

شرعی مسائل میں رہنمائی حاصل کیجیے

اپنے دینی و شرعی مسائل کے حل کے لیے
دارالافتاء کے مستند مفتیانِ کرام سے
رہنمائی حاصل کیجیے۔ اپنا سوال واٹس ایپ
کے ذریعے ارسال فرمائیں۔


واٹس ایپ پر اپنا شرعی سوال ارسال کریں

0309-7759396
قرآن و سنت کی روشنی میں شرعی رہنمائی