بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

اہل ِ حدیث کی جانب سے حلالہ سے متعلق ایک اعتراض کا جواب

سوال

اہلِ حدیث غیر مقلد علماء اور محققین احناف پر یہ اعتراض کیا کرتے ہیں کہ احناف کے اکابر مجتہدین نے تین مرتبہ طلاق یافتہ عورت کی کسی دوسرے مرد کے ساتھ نکاح اور وطی کرنے کو جائز کہا ہے جبکہ اس عورت اور اسکے دوسرے خاوند کی پہلے سے نیت یہی ہو کہ وہ یہ نکاح صرف حلالہ ہی کی نیت سے کر رہے ہیں اور بہت جلد عورت کو طلاق دے کر آزاد کیا جائے گا کہ وہ دوبارہ پرانے شوہر سے نکاح کر سکے ۔ اس کو احناف مجتہدین نے ثواب کا عمل تک قرار دے ڈالا جبکہ صحیح الاسناد احاديث اہلِ سنت و الجماعت میں ایسے واضح مفاہیم والی روایات موجود ہیں کہ جان بوجھ کر منصوبہ بندی کر کے حلالہ کرنے اور کرانے والوں پر لعنت ہے اور ایسا شخص کرایہ کا سانڈ ہے۔ صحابہ کرام سے صحیح السند آثار میں بھی ایسے مفاہیم کی روایات ہیں کہ وہ ایسے حلالہ کو حرام اور زنا ہی سمجھتے تھے تو آج فقہ میں یہ حلال کیونکر ہے ۔

جواب

تین طلاقیں دینے کے بعد شرعاً حرمت مغلظہ ثابت ہو جاتی ہے اور میاں بیوی دونوں ایک دوسرے پر حرام ہو جاتے ہیں۔ تین طلاقیں دینے کے بعد اکٹھے رہنے کو جائز سمجھنا قرآن و حدیث کی صریح خلاف ورزی ہے۔ البتہ اگر وہ خاتون عدت گزار کر کسی دوسرےشخص سے نکاح کرے اور ہم بستری بھی ہو جائے پھر کسی وجہ سے دوسرا شوہر طلاق دے دے یا اس کا انتقال ہو جائے تو یہ عورت عدت گزارنے کے بعد پہلے شوہر سے نکاح کر سکتی ہے۔لیکن حلالہ کی شرط پر نکاح کرنا نا جائز اور گناہ کبیرہ ہے اور احادیث مبارکہ میں اس پر لعنت وارد ہوئی ہے اور اسے فقہاء احناف نے بھی ناجائز قرار دیا ہے۔ البتہ اگر کوئی شخص ان کے حالات کے پیش نظر بعد میں طلاق دینے کی نیت سے اس خاتون سے نکاح کرے، تاکہ ان کا گھر پھر سے آباد ہو جائے لیکن زبان سے ایسی کوئی شرط نہ لگائے تو بعض فقہاء کےنزدیک وہ شخص عند اللہ ماجور ہوگا ۔
قال الله سبحانه وتعالى
{فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة:230]
أحكام القرآن،أبو بكر أحمد بن علي الرازي الجصاص(م:370هـ) (2/ 83)قديمي
قوله تعالى{ فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره}  فحكم بتحريمها عليه بالثالثة بعد الاثنتين ولم يفرق بين إيقاعهما في طهر واحد أو في أطهارفوجب الحكم بإيقاع الجميع على أي وجه أوقعه من مسنون أو غير مسنون ومباح أو محظور
صحيح البخاري، محمد بن إسماعيل(م: 256هـ)(2/ 791) قديمي
باب من أجاز طلاق الثلاث لقول الله تعالى: {الطلاق مرتان فإمساك بمعروف أو تسريح بإحسان} [البقرة: 229]…. عن عائشة، أن رجلا طلق امرأته ثلاثا، فتزوجت فطلق، فسئل النبي صلى الله عليه وسلم: أتحل للأول؟ قال: «لا، حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الأول
الدرالمختار،العلامةعلاءالدين الحصكفي(م:1088هـ) (3/ 414) سعيد
 (وكره) التزوج للثاني (تحريما) لحديث «لعن المحلل والمحلل له» (بشرط التحليل) كتزوجتك على أن أحللك  (وإن حلت للأول) لصحة النكاح وبطلان الشرط فلا يجبر على الطلاق كما حققه الكمال، خلافا لما زعمه البزازي:. ومن لطيف الحيل قوله: إن تزوجتك وجامعتك، أو وأمسكتك فوق ثلاث مثلا فأنت بائن، ولو خافت أن لا يطلقها تقول: زوجتك نفسي على أن أمري بيدي زيلعي، وتمامه في العمادية (أما إذا أضمر ذلك لا) يكره (وكان) الرجل (مأجورا) لقصد الإصلاح، وتأويل اللعن إذا شرط الأجر
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء الاحسان

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ، لاہور

شرعی مسائل میں رہنمائی حاصل کیجیے

اپنے دینی و شرعی مسائل کے حل کے لیے
دارالافتاء کے مستند مفتیانِ کرام سے
رہنمائی حاصل کیجیے۔ اپنا سوال واٹس ایپ
کے ذریعے ارسال فرمائیں۔


واٹس ایپ پر اپنا شرعی سوال ارسال کریں

0309-7759396
قرآن و سنت کی روشنی میں شرعی رہنمائی