اہلِ حدیث غیر مقلد علماء اور محققین احناف پر یہ اعتراض کیا کرتے ہیں کہ احناف کے اکابر مجتہدین نے تین مرتبہ طلاق یافتہ عورت کی کسی دوسرے مرد کے ساتھ نکاح اور وطی کرنے کو جائز کہا ہے جبکہ اس عورت اور اسکے دوسرے خاوند کی پہلے سے نیت یہی ہو کہ وہ یہ نکاح صرف حلالہ ہی کی نیت سے کر رہے ہیں اور بہت جلد عورت کو طلاق دے کر آزاد کیا جائے گا کہ وہ دوبارہ پرانے شوہر سے نکاح کر سکے ۔ اس کو احناف مجتہدین نے ثواب کا عمل تک قرار دے ڈالا جبکہ صحیح الاسناد احاديث اہلِ سنت و الجماعت میں ایسے واضح مفاہیم والی روایات موجود ہیں کہ جان بوجھ کر منصوبہ بندی کر کے حلالہ کرنے اور کرانے والوں پر لعنت ہے اور ایسا شخص کرایہ کا سانڈ ہے۔ صحابہ کرام سے صحیح السند آثار میں بھی ایسے مفاہیم کی روایات ہیں کہ وہ ایسے حلالہ کو حرام اور زنا ہی سمجھتے تھے تو آج فقہ میں یہ حلال کیونکر ہے ۔
تین طلاقیں دینے کے بعد شرعاً حرمت مغلظہ ثابت ہو جاتی ہے اور میاں بیوی دونوں ایک دوسرے پر حرام ہو جاتے ہیں۔ تین طلاقیں دینے کے بعد اکٹھے رہنے کو جائز سمجھنا قرآن و حدیث کی صریح خلاف ورزی ہے۔ البتہ اگر وہ خاتون عدت گزار کر کسی دوسرےشخص سے نکاح کرے اور ہم بستری بھی ہو جائے پھر کسی وجہ سے دوسرا شوہر طلاق دے دے یا اس کا انتقال ہو جائے تو یہ عورت عدت گزارنے کے بعد پہلے شوہر سے نکاح کر سکتی ہے۔لیکن حلالہ کی شرط پر نکاح کرنا نا جائز اور گناہ کبیرہ ہے اور احادیث مبارکہ میں اس پر لعنت وارد ہوئی ہے اور اسے فقہاء احناف نے بھی ناجائز قرار دیا ہے۔ البتہ اگر کوئی شخص ان کے حالات کے پیش نظر بعد میں طلاق دینے کی نیت سے اس خاتون سے نکاح کرے، تاکہ ان کا گھر پھر سے آباد ہو جائے لیکن زبان سے ایسی کوئی شرط نہ لگائے تو بعض فقہاء کےنزدیک وہ شخص عند اللہ ماجور ہوگا ۔