بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

مرزائی لڑکے کواپنی بہن کا رشتہ دینا

سوال

بعض لوگوں کو خفیہ طور پر معلوم ہوا کہ ایک شخص نے اپنی بہن کا رشتہ ایک مشہور مرزائی کو خفیہ طور پر دے دیا ہے۔ جب لوگوں کو اس کا علم ہوا تو انہوں نے اسلامی ہمدردی، خیر خواہی اور غیرت کے طور پر سمجھایا کہ مسلمان اور مرزائی کے درمیان نکاح نہیں ہوسکتا۔ مرزائی اپنے کفریہ عقائد کی وجہ سے کافر، مرتد اور زندیق ہیں۔ چنانچہ بعض علماء نے مرزائیوں کے عقائد و نظریات اور کفریات سے بحوالہ آگاہ کیا، شبہات کے جوابات دیے اور اس شخص کو سمجھایا، لیکن اس نے مرزائیوں کو کافر، مرتد اور زندیق تسلیم کرنے اور اپنی بہن کا رشتہ نہ دینے کی بجائے تمام لوگوں کے سامنے بآوازِ بلند کہا کہ میں مرزائیوں کو تمہاری طرح کافر، مرتد اور زندیق نہیں کہتا۔ مرزائیوں کے بارے میں جو باتیں تم نے کہی ہیں، یہ تمہاری اپنی بنائی ہوئی ہیں۔ معاذ اللہ! تو اس نے اپنے عقیدے کا عملاً اظہار کرتے ہوئے مرزائی کے ساتھ اپنی بہن کی شادی کرکے رخصتی کردی۔ اس عمل میں اس کی والدہ بھی سرِفہرست رہیں۔ مندرجہ ذیل امور کے بارے میں جواب مطلوب ہے:
نمبر(1) مذکورہ شخص، اس کی والدہ اور اس کی بہن کے لیے کیا حکم ہے؟
نمبر(2) ان کے ساتھ تعلقات و معاملات رکھنے کا کیا حکم ہے؟
نمبر(3) ان کے ساتھ اجتماعی قربانی میں شرکت کرنے کا کیا حکم ہے؟ آیا مسلمانوں کی قربانی ہوجائے گی یا نہیں؟
نمبر(4) مذکورہ شخص کے اپنے نکاح کا کیا حکم ہے؟
نمبر(5) اس شادی میں شریک ہونے والے حاضرین اور اس کے گواہ بننے والوں کے بارے میں کیا حکم ہے اور ان کے نکاح کا کیا حکم ہے؟
نمبر(6) مذکورہ شخص، اس کی والدہ اور اس کی بہن اگر اپنے عمل پر نادم ہو کر مرزائی سے رشتہ توڑ لیتے ہیں تو پھر کیا حکم ہوگا؟
دیہاتی علاقہ ہونے کا لحاظ کرتے ہوئے عام فہم انداز میں ایک ایک مسئلہ کا جواب قرآن و سنت کی روشنی میں عنایت فرمایا جائے۔

جواب

نمبر(1) قادیانی دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ ان کے ساتھ تعلقات رکھنا ممنوع ہے۔ صورت مسئولہ میں مذکورہ شخص نے اپنی بہن کا نکاح قادیانی کے ساتھ کیا یہ نکاح شرعاً منعقد نہیں ہوا ۔اس لیے ان پر لازم ہے کہ قادیانی سے ہر قسم کے تعلق کو ختم کریں اور اپنی بہن کو واپس اپنے گھر لائیں۔
نمبر (2)مذکورہ صورتِ حال میں ان کے ساتھ تعلقات اور معاملات ہر گز نہ رکھے جائیں جب تک اپنے کئے ہوئے پر توبہ تائب نہ ہوں۔
نمبر (3) قربانی میں ان کے ساتھ ہر گز شرکت نہ کریں ۔
نمبر (4) ذکر کردہ صورت حال میں اگر مذکورہ شخص کے سامنے قادیانیوں کے کفریہ عقائد واضح کیے گئے اور اسے یہ بات معلوم بھی ہے کہ جسے میں نے رشتہ دیا ہے وہ ان کفریہ عقائد کا حامل ہے اس کے باوجود اس نے اسے مسلمان کہا تو مذکورہ شخص کا نکاح باقی نہیں رہا، اس پر لازم ہے کہ تجدید ایمان کرے اور بعد میں نئے مہر کے عوض نیا نکاح کرے۔
نمبر(5) شادی میں شرکت کرنے والوں اور گواہ بننے والوں پر لازم ہے کہ توبہ استغفار کریں۔
نمبر(6) اگر وہ توبہ کرلیتے ہیں اور مرزائی سے رشتہ توڑ لیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے امید ہے کہ ان کی توبہ قبول ہوگی۔ اور توبہ کے بعد مسلمانوں کے لیے ان کے ساتھ تعلقات رکھنا بھی جائز ہوگا۔
جامع الفصولين ،محمود بن اسرائيل(م:823هـ) (2/ 164)اسلامی کتب خانہ
الرضا بكفر غيره كفر بلا تفصيل
مرقاة المفاتيح،ملاعلي القاري (م:1014هـ) (8/ 3208)دار الفكر
لأنه إذا رأى منكرا معلوما من الدين بالضرورة فلم ينكره ولم يكرهه، ورضي به واستحسنه كان كافرا
الدرالمختار،العلامةعلاءالدين الحصكفي(م:1088هـ) (6/ 326)سعيد
(وإن) (كان شريك الستة نصرانيا أو مريدا اللحم) (لم يجز عن واحد) منهم لأن الإراقة لا تتجزأ  هداية لما مر
الدرالمختار،العلامةعلاءالدين الحصكفي(م:1088هـ) (3/ 200)سعيد
(ولا) يصلح (أن ينكح مرتد أو مرتدة أحدا) من الناس مطلقا
الدرالمختار،العلامةعلاءالدين الحصكفي(م:1088هـ) (4/ 231)سعيد
وكل مسلم ارتد فتوبته مقبولة
ردالمحتار،العلامة ابن عابدين الشامي(م:1252هـ) (4/ 223)سعيد
[تنبيه] في البحر والأصل أن من اعتقد الحرام حلالا فإن كان حراما لغيره كمال الغير لا يكفر وإن كان لعينه فإن كان دليله قطعيا كفر، وإلا فلا.واللہ اعلم
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء الاحسان

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ، لاہور

شرعی مسائل میں رہنمائی حاصل کیجیے

اپنے دینی و شرعی مسائل کے حل کے لیے
دارالافتاء کے مستند مفتیانِ کرام سے
رہنمائی حاصل کیجیے۔ اپنا سوال واٹس ایپ
کے ذریعے ارسال فرمائیں۔


واٹس ایپ پر اپنا شرعی سوال ارسال کریں

0309-7759396
قرآن و سنت کی روشنی میں شرعی رہنمائی