بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

بیوی خاوند سے بچوں کا معاوضہ نہیں لے سکتی

سوال

کیا بیوی خاوند سے بچوں کی پرورش کا معاوضہ لے سکتی ہے ؟ قرآن و حدیث کا کیا حکم ہے؟

جواب

بیوی نکاح اور عدت کے دوران خاوند سے بچوں کی پرورش کا معاضہ نہیں لے سکتی۔
الفتاوی الہندیۃ،لجنةعلماء برئاسة نظام الدين البلخي (1/ 543)العلمية
ذكر في السراجية؛ لأن الأم تستحق أجرة على الحضانة إذا لم تكن منكوحة ولا معتدة لأبيه وتلك الأجرة غير أجرة إرضاعه
بدائع الصنائع،العلامة علاءالدين الكاساني(م:587هـ) (4/ 41)العلمية
 ولأن أجر الرضاع يجب لحفظ الصبي وغسله وهو من نظافة البيت، ومنفعة البيت تحصل للزوجين فلا يجوز لها أن تأخذ عوضا عن منفعة تحصل لها حتى لو استأجرها على إرضاع ولده من غيرها جاز؛ لأن ذلك غير واجب عليها فلا يكون أخذ الأجرة على فعل واجب عليها. واللہ اعلم
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء الاحسان

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ، لاہور

شرعی مسائل میں رہنمائی حاصل کیجیے

اپنے دینی و شرعی مسائل کے حل کے لیے
دارالافتاء کے مستند مفتیانِ کرام سے
رہنمائی حاصل کیجیے۔ اپنا سوال واٹس ایپ
کے ذریعے ارسال فرمائیں۔


واٹس ایپ پر اپنا شرعی سوال ارسال کریں

0309-7759396
قرآن و سنت کی روشنی میں شرعی رہنمائی