نمبر(1)زید نے اجتماعی قربانی کے لیے ایک سینٹر بنایا ہے جس میں وہ اپنی رقم سے جانور خرید کر لاتا ہے پھر اس پرمنافع رکھ کر خود ہی اس کی ایک قیمت طے کر دیتا ہے، مثلاً اس نے 70،000 روپے کا جانور خرید لیا پھر اس کی قیمت طے کردی 75،000 روپے جب کوئی شخص حصہ رکھنے کے لیے آتا ہے تو اس کو بتایا جاتا ہے کہ 75،000 روپے اس کی قیمت ہے اگر اس کو مناسب لگے تو وہ حصہ جمع کروا لیتا ہے۔
نمبر (2) زید اجتماعی قربانی میں جو حصہ وصول کرتا ہے وہ صرف جانور کی قیمت ہے جو منافع کے ساتھ خودطے کی، اس کے علاوہ 2000 روپے فی حصہ دار سے اضافی پیسے لیے جاتے ہیں جو دیگر ضروریات میں کام آتے ہیں مثلاً قصاب کی مزدوری چارہ وغیرہ ۔ تمام اخراجات نکال کر جو رقم بڑھ جاتی ہے وہ زید اپنے لیے رکھ لیتا ہے اگر اخراجات زیادہ آ جائیں اور رقم کم پڑ جائے تو مزید وصول نہیں کی جاتی کیا یہ طریقہ جائز ہے؟
نمبر (3) زید نے ایک قربانی کا جانور خریدا اور لوگوں کے حصےڈ لوا کر رقمیں وصول کر لیں بعد میں جانور عیب دار ہو گیا مثلا چوٹ لگ گئی تو کیا یہ جانور بیچ کر اور خریدا جا سکتا ہے بغیر شرکا کی اجازت سے ؟
نمبر(1) صورت مسئولہ میں زید اپنی رقم سے جانور خرید کر زیادہ قیمت پر قربانی میں حصہ لینے والے شخص کو بیچ سکتا ہے، بشرطیکہ خریدار ( حصہ دار) کے سامنے یہ بات واضح ہو کہ مذکورہ شخص ادارہ والے سے ہی وہ جانور خرید رہا ہے، اورادارہ اس کے لئے بطور وکالت نہیں خرید رہا، بلکہ ادارہ نے اپنے لیے خریدا تھا اب اس کو بیچ کربطور وکالت اس کی طرف سے قربانی کررہا ہے۔
نمبر (2) اجتماعی قربانی کا انتظا م کرنے والا ادارہ قربانی کرنے والوں کی طرف سے وکیل ہوتا ہے تو عقد وکالت کی وجہ سے قربانی کرنے پر جتنا خرچہ آئے گا اتناہی کا حقدار ہوتا ہے، البتہ اگر ادارہ حصہ داران کے ساتھ الگ سے عقد اجارہ کرلے تو اس صورت میں مذکورہ طریق کار درست ہو گا۔
نمبر (3)اگر قربانی کا جانور عیب دار ہو گیا تو شرکاء کی اجازت سے اس کو بیچ کر دو سر اجانور خرید ا جا سکتا ہے شرکاءکی اجازت کے بغیر جائز نہیں۔
بدائع الصنائع،العلامة علاءالدين الكاساني(م:587هـ) (5/ 67)العلمية
(ومنها) أنه تجزئ فيها النيابة فيجوز للإنسان أن يضحي بنفسه وبغيره بإذنه؛ لأنها قربة تتعلق بالمال فتجزئ فيها النيابة كأداء الزكاة وصدقة الفطر؛ ولأن كل أحد لا يقدر على مباشرة الذبح بنفسه خصوصا النساء
الدرالمختار،العلامةعلاءالدين الحصكفي(م:1088هـ) (5/ 132)سعيد
(المرابحة)…(بيع ما ملكه)…(بما قام عليه وبفضل)
الفتاوی الهندية ،لجنةعلماء برئاسة نظام الدين البلخي(4/ 454)رشيدية
ويجوز الاستئجار على الذكاة لأن المقصود منها قطع الأوداج دون إفاتة الروح