مارکیٹ میں دوکاندار کے پاس گاہک آتا ہے کہ فلاں چیز چاہیے۔ وہ چیز دکاندار کے پاس نہیں ہوتی لیکن وہ کہتا ہے کہ اتنے میں مل جائے گی۔ یہ دکاندار پھر اس گاہک سے کہتا ہے کہ فلاں دکاندار کے پاس جاکر وصول کر لو۔ یہ دکاندار دوسرے دکاندار کو فون پر کہتا ہے کہ گاہک کو بھیج دیا، اور اتنے میں فلاں چیز حوالہ کرو۔ وہ چیز اگر پانچ سو کی ہوتی ہے تو یہ گاہک کے ساتھ چھے سو میں بات کرتا ہے۔ یہ سو روپے اس پہلے والے دکاندار نے اپنے لیے رکھے ہوتے ہیں۔ مارکیٹ میں لوگوں کا تعامل اس پر ہے۔ اس کے بارے میں کیا حکم ہے ؟ اس کے بارے میں شرعی راہ نمائی فرمائیں۔
سنن الترمذي،أبوعيسى محمد بن عيسى الترمذي(م:279هـ) (3/ 526)بيروت
عن حكيم بن حزام قال: أتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت: يأتيني الرجل يسألني من البيع ما ليس عندي، أبتاع له من السوق، ثم أبيعه؟ قال: «لا تبع ما ليس عندك» وفي الباب عن عبد الله بن عمرو
بدائع الصنائع،العلامة علاءالدين الكاساني(م:587هـ) (5/ 146)العلمية
(ومنها) وهو شرط انعقاد البيع للبائع أن يكون مملوكا للبائع عند البيع فإن لم يكن لا ينعقد، وإن ملكه بعد ذلك بوجه من الوجوه إلا السلم خاصة، وهذا بيع ما ليس عنده ، ونهى رسول الله – صلى الله عليه وسلم – عن بيع ما ليس عند الإنسان، ورخص في السلم». واللہ اعلم