ہمارا گاؤں تحصیل ہیڈ کواٹر اوگی سے 20 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ ہمارے گاؤں کی کل آبادی تقریباً 1500 ہے۔ ان میں سے تقریباً 600 کی آبادی گاؤں میں موجود ہے باقی 900 باہر دوسرے شہروں میں آباد ہے۔ ہمارے گاؤں پہاڑوں پر واقع ہیں۔ ہمارے گاؤں کے قریب چھوٹی چھوٹی بستیاں الگ الگ ناموں سے موسوم ہیں ۔ ان کی اپنی اپنی مساجد ہیں ، اپنے قبرستان ہیں۔ ان بستیوں کی مجموعی آبادی تقریباً 2500 کے قریب ہے۔ ان بستیوں کے درمیان بعض جگہوں پر کھیت ہیں اور درمیانی فاصلہ تقریبا 15 منٹ ہے۔ ہمارے گاؤں میں تقریباً 10 دکانیں ہیں جن میں اشیائے خوردو نوش کی اشیاء موجود ہیں۔
تحصیل ہیڈ کواٹر سے ہمارے گاؤں تک ایک کارپٹ سڑک موجود ہے۔ ہمارے گاؤں میں کوئی سرکاری ہسپتال نہیں ہے۔ ڈاک خانہ نہیں ہے۔پولیس تھانہ بھی نہیں ہے۔ البتہ 7 کلومیٹر کے فاصلے پر پولیس چوکی ہے۔ ہمارے گاؤں میں لیڈی ڈاکٹر نہیں ہے۔ البتہ ایک سرکاری ہسپتال میں نرسنگ کے شعبے میں کام کرنے والا ملازم شام کے وقت لوگوں کو دوائی دیتا ہے۔ ہمارے گاؤں میں اینٹ بجری ، سریا، سیمنٹ کی کوئی دکان نہیں ہے۔ ہمارے گاؤں کی حدود میں کوئی سرکاری سکول نہیں ہے، البتہ قریب بستی میں لڑکوں اور لڑکیوں کے پرائمری اور مڈل ، میٹرک پبلک سکول ہے، کوئی سرکاری یا غیر سرکاری کالج نہیں ہے۔ کوئی گوشت کی دوکان نہیں ہے، البتہ قریب گاؤں میں فارمی مرغی مل سکتی ہے۔ ہمارے گاؤں سے صبح کے وقت گاڑیاں تحصیل ہیڈ کواٹر کے لیے جاتی ہیں۔ ان پر لوگ اور دوکان دار حضرات اپنی اشیائے ضروریہ یا عدالتی کاموں یا تھانے کچہریوں اور پیشیوں کے لیے جاتے ہیں۔ اگر تاخیر ہوجائے تو پھر گاڑی ملنا مشکل ہوتا ہے۔ 24 گھنٹے پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولت میسر نہیں ہے۔ ایک بچوں اور بچیوں کا مدرسہ ہے جن میں بچے حفظ و ناظرہ اور قاعدہ کی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔
آپ حضرات سے درخواست ہے کہ مندرجہ بالا تفصیل کو سامنے رکھتے ہوئے اس بستی میں جمعہ کی نماز کا کیا حکم ہے، آیا جمعہ کی نماز پڑھیں یا ظہر کی نماز ادا کریں؟
مذکورہ سوال کے اصل جواب سے پہلے ایک تمہید ذہن نشین فرمالیں۔ اصول یہ ہے کہ گاؤں میں جمعہ صحیح نہیں اور شہر و قصبات میں صحیح ہے۔ قصبہ کی تعریف ہمارے عرف میں یہ ہے کہ جہاں ایسا بازار موجود ہو جس میں دکانیں چالیس پچاس متصل ہوں، اور بازار روزانہ لگتا ہو، اور اس بازار میں روز مرہ کی ضروریات ملتی ہوں۔ مثلاً جوتہ کی دکان بھی ہو اور کپڑے کی بھی، غلہ کی بھی اور دودھ ،گھی کی بھی، اور وہاں ڈاکٹر یا حکیم بھی ہوں، وغیرہ وغیرہ اور وہاں ڈاکخانہ بھی ہو، اور پولیس کا تھانہ یا چوکی بھی ہو، اور اس میں مختلف محلے مختلف ناموں سے موسوم ہو ۔ سوال میں جس بستی کا آپ نے ذکر کیا ہے اس بستی پر یہ تعریف صادق نہیں آرہی جس کی وجہ سے اس بستی میں جمعہ کی نماز جائز نہیں ہے، بلکہ مذکورہ بستی میں ظہر کی نماز کی پابندی کی جائے۔
ردالمحتار،العلامة ابن عابدين الشامي(م:1252هـ) (2/ 137)سعيد
عن أبي حنيفة أنه بلدة كبيرة فيها سكك وأسواق ولها رساتيق وفيها وال يقدر على إنصاف المظلوم من الظالم بحشمته وعلمه أو علم غيره يرجع الناس إليه فيما يقع من الحوادث وهذا هو الأصح
فتاوی قاضی خان،فخرالدين الحسن بن منصور (م:592ه) (1/ 155)رشيدية
ولا يكون الموضع مصراً في ظاهر الرواية إلا أن يكون فيه مفت وقاض يقيم الحدود وينفذ الأحكام وبلغت أبنيته أبنية منى. واللہ اعلم