بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

فرض اور سنتوں کے درمیان نوافل پڑھنے کا حکم

سوال

ظہر کی چار سنتوں کے بعد فرض سے پہلے نفل پڑھ سکتا ہے ؟ اسی طرح فجر کے فرض اور سنتوں کے درمیان؟

جواب

ظہر کی سنتوں کے بعد فرض نماز شروع ہونے میں اگر وقت ہو تو نفل پڑھنا درست ہے، تاہم بہتر یہ ہے کہ سنتوں اور فرض کے درمیان فصل نہ ہو ۔ نوافل سنتوں سے پہلے پڑھنے چاہیے، جبکہ طلوع فجر کے بعد سے لے کر طلوع آفتاب کے بعد تک نوافل پڑھنا ممنوع ہے اس لیے اس وقت فجر کی سنتوں کے علاوہ نوافل ادا نہ کریں۔
 إعلاء السنن،العلامة ظفر أحمد العثمانی(م:1394 هـ)) ۲ / ۵۴۳ (دار الفكر
عن أبي سعيد الخدري رضی الله عنه يقول “لا صلاة بعد الصبح حتى ترفع الشمس ، ولا  صلوة بعد العصر حتى تغيب الشمس ” هذا الحديث يدل بإطلاقه على كراهة الصلوة  بعد  الفجر إلى ارتفاع الشمس
 الفتاوی الہندیۃ،لجنةعلماء برئاسة نظام الدين البلخي(۱/۱۲۴) بيروت
و لوصلی رکعتین مرتین بعد الطلوع فالسنة آخر هما لأنه أقرب إلى المكتوبة
 البحرالرائق،العلامة ابن نجيم المصري(م:970ه)( ۲/۵۸)رشيديۃ
و لو صلي ركعتي الفجر مرتين بعد الطلوع فالسنة آخر هما لأنه أقرب إلى المكتوبة ولم يتخلل بينهماصلوة، والسنة ما تؤدى متصلاً بالمكتوبة
منحة الخالق،ابن عابدين  الشامي(م:1252ه) ( ۲/۵۸)رشيديۃ
قال في النهر هو مبنى على أن الأفضل ايلاء هما للفرض .     واللہ اعلم
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء الاحسان

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ، لاہور

شرعی مسائل میں رہنمائی حاصل کیجیے

اپنے دینی و شرعی مسائل کے حل کے لیے
دارالافتاء کے مستند مفتیانِ کرام سے
رہنمائی حاصل کیجیے۔ اپنا سوال واٹس ایپ
کے ذریعے ارسال فرمائیں۔


واٹس ایپ پر اپنا شرعی سوال ارسال کریں

0309-7759396
قرآن و سنت کی روشنی میں شرعی رہنمائی