بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

نماز میں کپڑے ،آستین، پائنچے کو موڑنا

سوال

نماز میں کپڑے کو موڑنے سے نماز مکروہ تحریمی ہے۔ اس سے نماز ادا نہیں ہوتی ہے۔نماز میں تشمیر یعنی کف ثوب (کپڑوں کو موڑنا) مکروہ تحریمی ہے۔ اس سے نماز ادا نہیں ہوتی شلوار کو نیفے سے اڑسنا ، پتلون ( پینٹ) کے پائنچے ، اور آستینوں کو کہنیوں تک موڑنے سے نماز مکروہ تحریمی ہے۔ اس سے نماز ادا نہیں ہوتی۔ہاں البتہ اگر کوئی اس کراہت میں مبتلا ہے تو وہ نماز اپنے کپڑوں کو بغیر فولڈ کئے پڑھ سکتا ہے۔ اس سے انسان خلاف اولیٰ کا مرتکب ہوگا۔ اس کی نماز تو ہوجائے گی مگر ساتھ ہی ساتھ وہ مکروہ تنزیہی ( کم گناہ گار) کا مرتکب ہوگا۔
نمبر ۱۔ شیخ عبدالحق محدث دہلوی ، متوفی 1052 ھ لمحات جلد نمبر 4 صفحہ 175
نمبر۲۔ رد المحتار ج ۲ ص ۳۵۰، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی بیروت۔
نمبر۳۔ فتاوی رضویہ ج۷ ص ۳۱۱، مطبوع، رضا فاؤنڈیشن ( امام احمد رضا خان بریلوی)
نمبر۴۔ تحفۃ الخالق حاشیہ البحر الرائق ج ۲ ، ص ۲۴
نمبر۵۔ صحیح مسلم
اس کا شرعی حکم کیا ہے۔راہنمائی فرمائیں۔

جواب

نماز میں کپڑے کو موڑنا آستین ہو یا پائنچے اگر عملِ کثیر سے ہو تو اس سے نماز فاسد ہوجاتی ہے۔ اگر وضوء یا کسی اور سبب سے آستین چڑھائے ہوئے ہوں تو پہلے آستین کو نیچے کرے پھر نماز میں داخل ہو اور اگر آستین چڑھائے نماز میں داخل ہوگیا، تو اب بہتر یہ ہے کہ آہستہ آہستہ عمل قلیل سے آستین نیچے کرے، کیونکہ آستین چڑھا کر نماز پڑھنا ، یا آدھی آستین والی قمیص پہن کر نماز پڑھنا مکروہ ہے۔
ٹخنوں کو نماز کے علاوہ عام حالات میں بھی ڈھانپے رکھنا گناہ کبیرہ اور نماز میں اس کی قباحت اور بڑھ جاتی ہے۔ ہر وقت اپنے ٹخنوں کو کھولے رکھنا اور خاص طور پر نماز میں داخل ہوتے وقت اس کا اہتمام کرنا ضروری ہے ۔ اور اگر کسی غفلت کی وجہ سے ٹخنوں کو ڈھانپنے کی حالت میں نماز میں داخل ہوگیا تو اب عمل قلیل سے شلوار یا پینٹ کو اونچا کرے۔
سنن الترمذي،أبوعيسى محمد بن عيسى الترمذي(م:279هـ) (ص:303)عشره مبشره
عن عبد الله بن عمر، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «لا ينظر الله يوم القيامة إلى من جر ثوبه خيلاء
 ردالمحتار،العلامة ابن عابدين الشامي(م:1252هـ) (1/ 640)سعيد
(قوله كمشمر كم أو ذيل) أي كما لو دخل في الصلاة وهو مشمر كمه أو ذيله، وأشار بذلك إلى أن الكراهة لا تختص بالكف وهو في الصلاة. . . واختلف فيمن صلى وقد شمر كميه لعمل كان يعمله قبل الصلاة أو هيئته ذلك اهـ ومثله ما لو شمر للوضوء ثم عجل لإدراك الركعة مع الإمام. وإذا دخل في الصلاة كذلك وقلنا بالكراهة فهل الأفضل إرخاء كميه فيها بعمل قليل أو تركهما؟ لم أره: والأظهر الأول. . . قال: وهذا لو شمرهما خارج الصلاة ثم شرع فيها كذلك، أما لو شمر وهو فيها تفسد لأنه عمل الدر كثير
في حاشية لمعات التنقيح، لتقي الدين الندوي (3/24) و علوم الاسلامية
«قال ابن حجر: يكره باتفاق العلماء تنزيها ضم شعره وثيابه في الصلاة وإن لم يتعمد ذلك، بأن كان قبل الصلاة لشغل وصلى على حاله، خلافا لمالك
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء الاحسان

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ، لاہور

شرعی مسائل میں رہنمائی حاصل کیجیے

اپنے دینی و شرعی مسائل کے حل کے لیے
دارالافتاء کے مستند مفتیانِ کرام سے
رہنمائی حاصل کیجیے۔ اپنا سوال واٹس ایپ
کے ذریعے ارسال فرمائیں۔


واٹس ایپ پر اپنا شرعی سوال ارسال کریں

0309-7759396
قرآن و سنت کی روشنی میں شرعی رہنمائی