اس میں کوئی شک نہیں کہ انسان کے اچھے برے افعال بلکہ ارادے اور خیالات کے پیدا کرنے والے اللہ تبارک و تعالی ہیں، لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اللہ تبارک و تعالی نے انسان کو اینٹ یا پتھر کی طرح بے بس اور بے اختیار نہیں بنایا، بلکہ اسے اختیار دے رکھا ہے جسے وہ اپنی زندگی میں آزادانہ طور پر استعمال کرتا ہے۔ اور اپنی مرضی سے کوئی کام کرتا ہے تو کوئی کام چھوڑتا ہے۔ جیسے کسی شخص کو بھرا ہوا پستول ملا اور اس نے خدانخواستہ فائر کر کے اپنے سامنے موجود آدمی کو قتل کر دیا تو ہر شخص اس فائر کرنے والے کو مجرم اور قاتل قرار دیتا ہے ، پستول یا گولی بنانے والے کو قاتل نہیں قرار دیا جاتا حالانکہ گولی چلانے والے نے نہ تو پستول بنایا اور نہ ہی پستول کا کوئی پرزہ، نہ گولی بنائی اور نہ ہی گولی کا کوئی ذرہ، کسی چیز کو بنانے میں اس کا کوئی عمل دخل نہیں، اس نے صرف اپنی انگلی کی معمولی حرکت سے گولی چلائی ہے۔ لیکن اس کے باوجود اسے قاتل قرار دیا جاتا ہے کیونکہ اس نے اپنے اختیار سے یہ عمل کیا ہے اگر وہ چاہتا تو گولی نہ چلاتا۔ بالکل اسی طرح یہ بات بھی سمجھنی چاہیے کہ بلاشبہ انسان ، اس کے ارادے اور اعمال کا خالق اللہ تعالی ہے لیکن انسان جو بھی عمل کرتا ہے اپنے اختیار سے کرتا ہے۔ نماز ، روزہ، زکوۃ، حج اور دیگر نیک اعمال یا گناہ کے کام اپنے اختیار سے سر انجام دیتا ہے، اللہ کی طرف سے مجبور نہیں کیا جاتا۔ نہ گناہ مجبور ہو کر کرتا ہے اور نہ ہی نیکی۔ اذان کی آواز سن کر جو لوگ مسجد جاتے ہیں وہ بھی اپنے اختیار سے جاتے ہیں، اور جو لوگ اپنے دنیوی کاروبار میں مصروف رہتے ہیں وہ بھی اپنے اختیار سے ایسا کرتے ہیں، اسی اختیار پر اللہ تبارک و تعالی بندوں کو ثواب و عذاب عطا فرمائیں گے۔ مسئلہ تقدیر کو سمجھنے کے لیے مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب مد ظلہ کی کتاب ” مسئلہ تقدیر کا آسان حل اور عقیدہ تقدیر پر ایمان کے فوائد ” مطبوعہ ادارۃ المعارف کراچی کا مطالعہ کیا جا سکتاہے)
قوله تعالى:[سورة النساء:78]
{قُلْ كُلٌّ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ}
التفسير المظهري، محمد ثناء الله(م:1225ھ)( 2/ 156)رشیدية
قُلْ يا محمد كُلٌّ اى كل واحد من الحسنة والسيئة مِنْ عِنْدِ اللَّهِ بخلقه على حسب إرادته تفضلا او انتقاما على مقتضى حكمته ولا يجوز من الله تعالى الانتقام من أحد بشوم غيره فنسبتهم السيئة الى النبي صلى الله عليه وسلم بسبب شومه مع انغماسهم فى الكفر والمعاصي ظاهر البطلان
شرح كتاب الفقه الاكبر،ملا على القارى(م:1014ھ)دارالكتب العلمية
وإذا عرفت ذلك فللعباد أفعال اختيارية يثابون عليها إن كانت طاعة ويعاقبون عليها إن كانت معصية لا كما زعمت الجبرية أن لا فعل للعبد أصلا كسبا ولا خلقا
تکملة فتح الملهم،تقي عثماني(5/237)دارالعلوم كراتشي
والحاصل أن العبد ليس خالقاً لأفعاله، وإنما هو كاسب لها باختياره. أما كنه هذا الكسب وحقيقته، فخارج عن إدراك الإنسان، فهو من المتشابهات التي لا يجوز الخوض فيها، وليس شيء من الحاجات الدنيوية والأخروية متوقفاً على إدراك هذا الكنه، فالسكوت عنه أولى وأسلم
تکملة فتح الملهم،تقي عثماني(5/237)دارالعلوم كراتشي
والحاصل : أن هناك أموراً ثابتة لا مجال لإنكارها :الأول: أن الله تعالى قدر كل شيء بقضائه الحكيم قبل أن يخلقه، ولا يعلم قضاءه إلا هو .الثاني: أن كل عبد مكلف قد أعطاه الله تعالى اختياراً ظاهراً، وهو ثابت بالبداهة بالفرق بين حركة الرجل العاقل الصحيح وحركة الرجل المجنون والصبي والمريض الذي به رعدة. الثالث: أن التقدير السابق ليس إكراهاً لعبد من العباد على فعل شيء أو تركه فلا ينافي الاختيار الحاصل للعبد. الرابع: أن الله تعالى يخلق كل فعل بعد كسب العبد واختياره وبه يتعلق الثواب والعقاب، فلا ظلم في ذلك على أحد.الخامس: أن الله تعالى لا يتصور منه ظلم على عباده
دیکھیے:عقائد اسلام مؤلفہ مولانا ادریس کاندھلوی(ص:47 تا53)عقیدہ دہم