بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

عورت کاتراویح کی امامت کرنے کاحکم

سوال

عورت جماعت کےساتھ تراویح پڑھاسکتی ہے؟

جواب

فرض نماز ہویا نفل نماز عورت کامردوں کےلیےامام بنناجائز نہیں ، اسی طرح عورت کاعورتوں کی امامت کروانابھی مکروہ تحریمی )ناجائز)ہے،خواتین کےلیےیہی حکم ہےکہ وہ تنہانماز اداکریں تراویح کی جماعت نہ کروائیں ۔
إعلاء السنن (3/1300)دارالفکر:
فعلم أن جماعتهن وحدهن مکروهة”.
إعلاء السنن (3/1300)دارالفکر:
” عن علي بن أبي طالب رضي اللّٰه عنه أنه قال: لا تؤم المرأة. قلت: رجاله کلهم ثقات.
رد المحتار(2/365)رشیدیہ:
” ویکره تحریماً جماعة النساء ولو في التراویح ۔۔۔۔ فإن فعلن تقف الإمام وسطهن فلو قدمت أثمت”.
رد المحتار(2/365)رشیدیہ:
قوله: ويكره تحريماً) صرح به في الفتح والبحر (قوله: ولو في التراويح) أفاد أن الكراهة في كل ما تشرع فيه جماعة الرجال فرض أو نفل”.واللہ اعلم
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس