ہمارے گاؤں کا نام نور پور ہے اس گاؤں کی تاریخ اس کے مَلک خردل مرحوم نے فیس ادا کرکے گورنمنٹ کے ادارے سے معلوم کی تھی گورنمنٹ کے لوگوں نے جواب دیا کہ یہ گاؤں اس جگہ پر دو دفعہ آباد ہو کر برباد ہوا پھر تیسری دفعہ آباد ہوا تو اس کا نام نور پور رکھا گیا ۔اس کا اول آباد کار نور خان قوم گجر ہےجس کے نام پر نور پور ہے ۔اب موجودہ آبادی از طرف شمال دلاور آباد ،ملاح،حیدرہ گاؤں سے مل رہی ہے ۔اس میں ہمارا خاندان حضرت علی کرم اللہ وجہ کے خاندان محمد بن علی رضی اللہ عنہ کی اہلیہ خولہ بنت جعفر یمنی سے ہے ۔جو عربستان سے ہوتا ہواافغانستان پھر پشاور ،خوازخیل پھر عزشین بواسطہ مولانا بہاؤالدین ان کے بیٹے مولانا علاؤالدین آباد ہوئے۔ان کے بیٹے مولانا ضیاء الحق ؒ وغیرہ سات بھائیوں کی اولادآباد ہوئے ۔
باقی اس گاؤں میں گجروں کے علاوہ کئی خاندان آباد ہیں اعوان،ملیار،ترکھان،بھنیارے ،وغیرہ اور تقریباًضرورت کی چیزیں اب یہاں ملتی ہیں صرف جمعہ یہاں ایک مسجد کے علاوہ ادا نہیں ہوتا ۔ اب اس گاؤں میں کل آٹھ مساجد ہیں اور درس نظامی کے دو مدرسے للبنات بھی ہیں اور تین سکول عصری تعلیم کے بھی ہیں،اور اب اس نور پور کی آبادی بقول کونسلر عاصم نمبردار پانچ ہزار افراد پر مشتمل ہے ۔ہمارے گاؤں نور پور میں سات جنرل سٹور ہیں جن میں دودھ ،سبزی،گوشت مل جاتا ہے ،جوتے کی دوکان ،کپڑے کی ایک عدد دوکان ، ڈسپنسری کی ایک عدد دوکان ،حجام کی دو عدد دوکانیں موجود ہیں ۔ہمارے گاؤں کی مغرب کی طرف فتح چک گاؤں مشرق کی طرف ولیاء کالو گاؤں اور شمال کی طرف دلاور آباد ملاح اور جنوب کی طرف اعوان آباد گاؤں ہے جن میں عرصہ دراز سے نماز جمعہ ادا کیا جارہا ہے صرف ہمارے گاؤں مین ابھی تک جمعہ ادا نہیں کیا جا رہا ۔اور ہم سے گوندل سٹاپ دو کلو میٹر اور ملاح گاؤں دو کلو میٹر فاصلے پر ہے جن میں سہولیات ہیں ۔گاؤں نور پور میں حنفی مسلک کے مطابق جمعہ ادا نہیں کیاجا رہا۔ اس بارے میں علماء رہنمائی فرمائیں۔
واضح رہے کہ احناف کے نزدیک شرعی اصول یہ ہے کہ جمعہ و عیدین کے قیام کے لیے شہر ، قصبہ یا بڑا گاؤں ہو نا شرط ہے اور بڑا گاؤں وہ ہے جس کی آبادی کم از کم اڑھائی ہزار سے تین ہزار ہواور وہاں ایسا بازار ہو جس میں چالیس پچاس دوکانیں متصل ہوں اور وہ بازار روزانہ لگتا ہو اور اس بازار میں روز مرہ کی ضروریات ملتی ہوں جیسے جوتے کی دوکان ،کپڑے کی دوکان،غلہ کی دوکان ،ڈاکٹر یا حکیم کی دوکان ،معمار و مستری ،ڈاکخانہ ،تھانہ موجود ہواور اس گاؤں میں مختلف محلے مختلف ناموں سے موسوم ہوں۔ لہٰذا جو گاؤں مندرجہ بالا اوصاف کا حامل ہے تو وہاں نماز جمعہ و عیدین پڑھنا درست ہو گا اور جس گاؤں میں یہ شرائط مفقود ہوں تو وہاں جمعہ کی ادائیگی درست نہیں۔( ماخذہ : تبویب دارالافتاء جامعہ احسان القرآن ۲۵/۲)
لہٰذا آپ کی بستی میں اگر یہ شرائط موجود ہیں تو وہاں جمعہ صحیح ہوگا اور اگر یہ شرائط نہیں پائی جا رہیں تو پھر وہاں جمعہ صحیح نہیں ہوگا۔اور اس کے لیے وہاں کے مقامی مستندعلماء مذکورہ بالا شرائط کو سامنے رکھ کر فیصلہ کر لیں۔اگر ان شرائط کی موجودگی یا عدم موجودگی کے حوالے سے اختلاف رائے ہو تو اس کے لیے پھربہتر صورت یہ ہے کہ گاؤں کے مقامی مستند علماء اپنے ساتھ دیگر دانشور اور مجاز افسرکو بلا لیں اور مل بیٹھ کر صورت حال سے متعلق باہمی اتفاقِ رائے سے کوئی فیصلہ کر لیں ۔اگر جمعہ پڑھنے کا فیصلہ ہوجائے تو قائم کر یں اور اگر جمعہ نہ پڑھنے کا فیصلہ ہوتو ترک کر دیں ۔تا ہم یہ بات ذہن نشین رہے کہ جمعہ واجب نہ ہونے کے باوجود جمعہ پڑھ لینے سے ظہر کا فریضہ ذمہ سے ساقط نہ ہوگا۔
البحر الرائق (2/246)
(قوله: وهو كل موضع له أمير وقاض ينفذ الأحكام ويقيم الحدود) أي حد المصر المذكور هو ظاهر المذهب كما ذكره الإمام السرخسي زاد في الخلاصة ويشترط المفتي إذا لم يكن القاضي أو الوالي مفتيا وأسقط في الظهيرية الأمير فقال المصر في ظاهر الرواية أن يكون فيه مفت وقاض يقيم الحدود وينفذ الأحكام وبلغت أبنيته أبنية منى اهـ.
رد المحتار (2/ 137)
والحد الصحيح ما اختاره صاحب الهداية أنه الذي له أمير وقاض ينفذ الأحكام ويقيم الحدود وتزييف صدر الشريعة له عند اعتذاره عن صاحب الوقاية حيث اختار الحد المتقدم بظهور التواني في الأحكام مزيف بأن المراد القدرة على إقامتها على ما صرح به في التحفة عن أبي حنيفة أنه بلدة كبيرة فيها سكك وأسواق ولها رساتيق وفيها وال يقدر على إنصاف المظلوم من الظالم بحشمته وعلمه أو علم غيره يرجع الناس إليه فيما يقع من الحوادث وهذا هو الأصح.
رد المحتار (2/ 138)
لا تجوز في الصغيرة التي ليس فيها قاض ومنبر وخطيب كما في المضمرات والظاهر أنه أريد به الكراهة لكراهة النفل بالجماعة؛ ألا ترى أن في الجواهر لو صلوا في القرى لزمهم أداء الظهر.
المحيط البرهاني (2/ 66)
قال شمس الأئمة السرخسي رحمه الله: وظاهر المذهب أن المصر الجامع أن يكون فيه جماعات الناس، وجامع وأسواق للتجارات وسلطان أو قاضي يقيم الحدود، وينفذ الأحكام، ويكون فيه مفتي إذا لم يكن الوالي أو السلطان مفتياً