جمعہ کی پہلی اذان کے بعد سعی الی الجمعہ واجب ہے۔ لیکن موجودہ دور میں چونکہ پہلی اور دوسری اذان کے درمیان ڈیڑھ گھنٹے یا اس سے زائد وقفہ رکھا جاتا ہے ، اس لیے اگر کوئی شخص گھر میں قبل الجمعہ کی سنتیں ادا کر کے دوسری اذان سے پہلے مسجد جاتا ہے ، یا گھر میں سنتیں نہ پڑھنے کی صورت میں دوسری اذان سے پہلے سنتیں ادا کرنے کے بقدر وقت لے کر مسجد میں حاضر ہوتا ہے۔ تو کیا وہ پہلی اذان کے فوراً بعد جمعہ کی نیت سے روانہ نہ ہونے کی وجہ سے گناہ گار شمار ہو گا ؟
مذکورہ شخص اذان اول کے بعد سعی الی الجمعہ نہ کرنے کی وجہ سے گناہ گار ہو گا کیونکہ جن لوگوں پر جمعہ کی نماز فرض ہے ان کے لیے جمعہ کی پہلی اذان سے لے کر نہ نماز جمعہ سے فارغ ہونے تک مفتی بہ قول کے مطابق خرید و فروخت کرنا، سونا، کسی سے باتوں میں مشغول ہونا، یہاں تک کہ گھر یا دوکان وغیرہ میں بیٹھ کر قرآن مجید کی تلاوت کرنا اور کسی کتاب وغیرہ کا مطالعہ کرناوغیر ذالک، غرض وہ سارے کام اور مشاغل جو جمعہ کی طرف جانے کے اہتمام میں مخل ہوں سب کے سب مکروہ تحریمی یعنی نا جائز ہیں۔ اس کے علاوہ جمعہ کی تیاری کے متعلق جو کام ہیں وہ کئے جاسکتے ہیں، جیسے غسل کرنا، وضو کرنا، لباس پہننا و غیره، لیکن قصداً ان کاموں کو اذان اول تک مؤخر نہیں کر نا چاہئے۔ماخذہ: فتاوی عثمانی ۱/۵۳۱ ،فتاوی محمودیہ ۸/۳۳۸)
مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر (1/ 171)
(ويجب السعي وترك البيع بالأذان الأول) والواقع عقيب الزوال لقوله تعالى {إذا نودي للصلاة من يوم الجمعة فاسعوا إلى ذكر الله وذروا البيع} [الجمعة: 9] وقيل بالأذان الثاني لكن الأول هو الأصح وهو مختار شمس الأئمة لأنه لو انتظر الأذان عند المنبر يفوته أداء السنة وسماع الخطبة وربما يفوت الجمعة إذا كان بيته بعيدا من الجامع. واللہ اعلم