جمعہ کی پہلی اور دوسری اذان کے درمیان ڈیڑھ گھنٹے یا اس سے زیادہ کا وقفہ رکھا جاتا ہے۔اس معاملے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ، سلف صالحین اور امت کا عمل متوارث کیا تھا؟ یعنی جلد ی جمعہ ادا کرنا یا دیر سے ؟ ۲۔ہمارے ملک میں جو موجودہ طرزِ عمل رائج ہے ، اس کے بارے میں شریعت کا موقف کیا ہے ؟
احادیث مبارکہ میں آتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم زوال شمس کے بعد جلدی نماز جمعہ پڑھا کرتے تھے اور ایسے ہی حضرات صحابہ کرام کے زمانے میں نماز جمعہ زوال کے بعد جلد پڑھی جاتی تھی۔ اس لیے جمعہ کی نماز کو اول وقت میں پڑھنا افضل ہے ، البتہ اگر نمازیوں کی سہولت کے لیے کچھ تاخیر ہو جائے تو اس کی گنجائش ہے۔ اذان اول اور خطبے کے درمیان بہت زیادہ وقفہ کرنا، عہد رسالت و عہد صحابہ کے طریقے کے مطابق نہیں ہے ، اس سے احتراز کرنا چاہیے۔
صحيح البخاري (1/124)
عن السائب بن يزيد، قال: «كان النداء يوم الجمعة أوله إذا جلس الإمام على المنبر على عهد النبي صلى الله عليه وسلم، وأبي بكر، وعمر رضي الله عنهما، فلما كان عثمان رضي الله عنه، وكثر الناس زاد النداء الثالث على الزوراء» قال أبو عبد الله: ” الزوراء: موضع بالسوق بالمدينة “
عمدة القاري (6/ 202)
والأصل في الجمعة، التبكير لأن يوم الجمعة يوم اجتماع الناس وازدحامهم، فإذا أخرت يشق عليهم: وقال ابن قدامة: ولذلك كان النبي صلى الله عليه وسلم يصليها إذا زالت الشمس صيفا وشتاء على ميقات واحد، ثم إن أنسا، رضي الله تعالى عنه، قاس الجمعة على الظهر عند اشتداد الحر لا بالنص، لأن أكثر الأحاديث تدل على التفرقة في الظهر وعلى التبكير في الجمعة.
شرح الزرقاني على الموطأ (1/ 92)
وما رواه أيضا عن أبي رزين: ” كنا نصلي مع علي الجمعة فأحيانا نجد فيئا وأحيانا لا نجد ” فمحمول على المبادرة عند الزوال أو التأخير قليلا.
معارف السنن(6/396)
وبالجملۃ فھذا الأذان کان قبل التأذین بین یدي الخطیب ،وکان فی أول الوقت الظھر متصلا بالزوال
الدر المختار (1/ 367)
(وجمعة كظهر أصلا واستحبابا) في الزمانين؛ لأنها خلفه.
رد المحتار (1/ 367)
(قوله: واستحبابا في الزمانين) أي الشتاء والصيف ح، لكن جزم في الأشباه من فن الأحكام أنه لا يسن لها الإبراد. وفي جامع الفتاوى لقارئ الهداية: قيل إنه مشروع؛ لأنها تؤدى في وقت الظهر وتقوم مقامه، وقال الجمهور: ليس بمشروع؛ لأنها تقام بجمع عظيم، فتأخيرها مفض إلى الحرج ولا كذلك الظهر وموافقة الخلف لأصله من كل وجه ليس بشرط.واللہ اعلم