ہماری مسجد کی وقف زمین کے دو حصے ہیں، مغربی حصہ جو 50 فٹ چوڑائی اور 40 فٹ لمبائی پر مشتمل ہے، اور مشرقی حصہ تقریبا 30 فٹ چوڑائی اور 40 فٹ لمبائی پر مشتمل ہے، اور یہ مشرقی حصہ مغربی حصے سے اس طرح نشیب میں ہے، کہ اس کی چھت مغربی حصے کے فرش کے برابر ہے، اور یہ مسجد کا عرفی صحن سمجھا جاتا ہے، اور اس نچلے حصے کے شمال کی طرف آدھے حصے میں استنجا خانے، وضو خانے اور بیت الخلاء ہیں، اوپر اس کی چھت نماز کے لئے بنی ہوئی ہے اور نماز کے لیے استعمال ہوتی ہے، سوال یہ ہے ، کہ وضو خانے اور بیت الخلاء کی اس چھت پر معتکف کا بلا ضرورت جانے کا کیا حکم ہے ، کیا اس سے اعتکاف ٹوٹ جاتا ہے؟ واضح رہے کہ زمین کے جس حصے میں یہ وضو خانے اور بیت الخلاء بنے ہیں، یہ حصہ زمین اصل میں مسجد کے لئے وقف شدہ ہے ، اور مسجد کی اول تعمیر میں اس طرح بنے ہیں ۔
سوال میں ذکر کردہ صورت کے مطابق اگر مذکورہ مسجد، مسجد کی حدبندی کے وقت اس طرح بنا ئی گئی ہو کہ نچلے حصہ کو مسجد سے خارج اور اوپر والے حصہ کو مسجد میں شامل کرنے کی نیت کی گئی ہو اور اس کو باقاعدہ مسجد شرعی کی حیثیت دی گئی ہو تو اوپر والا حصہ مسجدِ شرعی کے حکم میں ہوگا ، لہٰذا معتکف کے وہاں جانے سے اعتکاف فاسد نہیں ہوگا۔
الفتاوى الهندية (1/ 212) دار الفكر:
(وأما مفسداته) فمنها الخروج من المسجد فلا يخرج المعتكف من معتكفه ليلا ونهارا إلا بعذر، وإن خرج من غير عذر ساعة فسد اعتكافه.
بدائع الصنائع (2/ 115) دار الكتب العلمية:
ولو صعد المئذنة لم يفسد اعتكافه بلا خلاف وإن كان باب المئذنة خارج المسجد؛ لأن المئذنة من المسجد. ألا ترى أنه يمنع فيه كل ما يمنع في المسجد من البول ونحوه ولا يجوز بيعها فأشبه زاوية من زوايا المسجد.
رد المحتار (4/ 357)سعيد:
(قوله أو جعل فوقه بيتا إلخ) ظاهره أنه لا فرق بين أن يكون البيت للمسجد أو لا إلا أنه يؤخذ من التعليل أن محل عدم كونه مسجدا فيما إذا لم يكن وقفا على مصالح المسجد وبه صرح في الإسعاف فقال: وإذا كان السرداب أو العلو لمصالح المسجد أو كانا وقفا عليه صار مسجدا. اهـ. شرنبلالية.واللہ اعلم