بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

مال تجارت ہبہ کرنے کے بعد موہوب لہ بھی اس مال میں تجارت کی نیت کر لے تو اس پر زکوٰۃ کا حکم

سوال

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ:
زید نے اپنے بیٹے کو ایک پلاٹ ہبہ (گفٹ) کر کے قبضہ دِلا دیا ۔ زید نے وہ پلاٹ بیچنے کی نیت سے خریدا تھا ۔ کل قیمت تیس لاکھ تھی ، جس میں سے پندرہ لاکھ دے چکا تھا ۔ بیٹے کو پلاٹ ہبہ کر کے بقیہ پندرہ لاکھ بھی ادا کرنے کا کہہ دیا اور رقم بیٹا ہی ادا کرے گا ۔اب دو سوالوں کے جواب مطلوب ہیں:
نمبر۱۔ بیٹے پر پلاٹ کی زکوٰۃ ہوگی یا نہیں؟
نمبر۲۔ پلاٹ کی قیمت کی بقیہ رقم کا حکم کیا ہوگا؟ کیونکہ وہ باپ پر لازم ہوئی تھی اور اب بیٹے نے ادا کرنی ہے؟ اسے زکوٰۃ سے مانع قرض کس کے حق میں شمار کریں گے؟ باپ کے یا بیٹے کے؟
نوٹ : والد نے بیٹے کو صرف تبرعاً بقیہ رقم ادا کرنے کا کہا ہے ۔

جواب

نمبر۱۔پوچھی گئی صورت میں اگر بیٹے کی نیت بھی بیچنے ہی کی ہے ، تو بیٹے پر اس پلاٹ کی زکوٰۃ لازم ہوگی اور اگر ہبہ کے بعد بیٹا اس پلاٹ سے تجارت کے علاوہ کوئی اور نیت مثلا : کرائے پر دینے کی یا خود رہائش کرنے کی نیت کر لے ، تو پھر اس کی زکوٰۃ لازم نہیں ہوگی ۔
اس مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ زکوٰۃ تین طرح کی چیزوں پر لازم ہوتی ہے : (1) سونا چاندی (کرنسی ، پرائز بانڈز بھی اسی میں شامل ہیں ) ۔ (2) مالِ تجارت ۔ (3) چرائی کے جانور ۔ مالِ تجارت کے لیے ضروری ہے کہ چیز خریدتے وقت آگے بیچنے کی نیت ہو ، اگر چیز خریدی ہی نہیں ، بلکہ کسی نے گفٹ کی یا وراثت میں ملی ، تو اگرچہ اس کو بیچنے کی نیت کر لے ، وہ مالِ تجارت نہیں ہوگا اور اس کی زکوٰۃ بھی لازم نہیں ہوگی ، ہاں اگر وہ پہلے سے مالِ تجارت ہو اور پھر بغیر خریدے مثلا : کسی نے اسے وہ مال گفٹ کر دیا یا مالِ تجارت ہی وراثت میں ملا اور ان دونوں صورتوں میں اس نے بھی بیچنے ہی کی نیت باقی رکھی ، تو وہ مالِ تجارت ہی شمار ہوگا اور اس کی زکوٰۃ لازم ہوگی ، جس کے لیے یہ دیکھا جائے گا کہ اگر بندہ پہلے سے صاحبِ نصاب تھا، تو گفٹ یا وراثت میں ملنے والے اِس مالِ تجارت کو بھی اُسی نصاب کے ساتھ ملا کر تمام کی زکوٰۃ ادا کی جائے گی اور اگر پہلے سے صاحبِ نصاب نہیں تھا ، تو پھر جب سے یہ مالِ تجارت اس کی ملکیت میں آیا ہے ، اس وقت سے اس کے نصاب کا سال شروع ہوجائے گا اور آئندہ سال زکوٰۃ کی دیگر شرائط پائے جانے سے زکوٰۃ ادا کرے گا اور اگر مالِ تجارت سے تجارت کے علاوہ کوئی اور نیت کر لی جائے ، تو وہ مالِ تجارت سے خارج ہوجاتا ہے اور اس کی زکوٰۃ لازم نہیں ہوتی ، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں اگر بیٹے کی نیت بھی بیچنے ہی کی ہے ، تو بیٹے پر اس پلاٹ کی زکوٰۃ لازم ہوگی اور اگر ہبہ کے بعد اس پلاٹ سے بیٹے کی نیت بیچنے کی نہیں ہے ، تو اس کی زکوٰۃ لازم نہیں ہوگی ۔
زکوٰۃ کس طرح کے مال پر لازم ہوتی ہے ، اس سے متعلق بدائع الصنائع میں ہے : ’’ أموال الزكاة أنواع ثلاثة أحدها: الأثمان المطلقة وهي الذهب والفضة، والثاني: أموال التجارة وهي العروض المعدة للتجارة، والثالث: السوائم‘‘ ترجمہ : زکوٰۃ کے مال کی تین قسمیں ہیں : (1) مطلق ثمن یعنی سونا چاندی (اورہر طرح کی کرنسی )۔ (2) مالِ تجارت ۔ (3) چرائی کے جانور ۔( بدائع الصنائع ، کتاب الزکوٰۃ ، جلد 2 ، صفحہ 100 ، مطبوعہ بیروت )
مالِ تجارت ہونے کی ایک صورت یہ ہے کہ کسی بھی قسم کا سامان، مکان وغیرہ تجارت کی نیت سے خریدنے سے ہی مالِ تجارت ہوگا ، اگر بغیر خریدے کوئی ایسی چیز ملی کہ جو پہلے سے مالِ تجارت نہیں ، تو اس میں تجارت کی نیت کرنے سے بھی تجارت کی نہیں ہوگی ، جیسا کہ فتاویٰ عالمگیری میں ہے : ’’ نية التجارة لا تعتبر ما لم تتصل بفعل التجارة وما ملكه بعقد ليس فيه مبادلة أصلا كالهبة والوصية والصدقة فإنه لا يصح فيه نية التجارة وهو الأصح كذا في البحر الرائق ولو ورثه فنواه للتجارة لا يكون لها ملخصاً ‘‘ ترجمہ : تجارت کی نیت اس وقت تک معتبر نہیں ہوگی ، جب تک عملِ تجارت کے ساتھ نیت ملی ہوئی نہ ہو اور جس ایگریمنٹ میں بالکل مال کا تبادلہ ہی نہ ہو ، جیسا کہ گفٹ ، وصیت اور صدقہ ، اس ایگریمنٹ کے ذریعے (تجارت کے علاوہ ) کسی چیز کا مالک بنا ، تو اس میں تجارت کی نیت درست نہیں ہوگی ۔ یہی زیادہ صحیح ہے ۔ جیسا کہ بحر الرائق میں ہے ، (لہٰذا ) اگر کوئی مال ( کہ جو پہلے سے تجارت کا نہیں تھا ) وراثت میں ملا اور اس میں تجارت کی نیت کر لی ، تو وہ مالِ تجارت نہیں ہوگا ( اور اس میں زکوٰۃ بھی لازم نہیں ہوگی ) ۔( فتاویٰ عالمگیری ، کتاب الزکوٰۃ ، الباب الاول ، جلد 1 ، صفحہ 174 ، مطبوعہ کوئٹہ )
مالِ تجارت ہونے کی دوسری صورت یہ ہے کہ اگر ہبہ یا وراثت میں ملنے والا مال ، مالِ تجارت ہی ہو ،اور جسے ملا اس نے بھی تجارت کی نیت باقی رکھی تو اسے گزشتہ نصاب کے ساتھ ملانے اور نیا سال شروع ہونے کے اعتبار سے اس کی زکوٰۃ سے متعلق فتاویٰ عالمگیری میں ہی ہے : ’’ ومن كان له نصاب فاستفاد في أثناء الحول مالا من جنسه ضمه إلى ماله و زكاه المستفاد من نمائه أولا وبأي وجه استفاد ضمه سواء كان بميراث أو هبة أو غير ذلك ۔۔۔ فإن استفاد بعد حولان الحول فإنه لا يضم ويستأنف له حول آخر بالاتفاق ملخصاً ‘‘ ترجمہ : صاحبِ نصاب شخص کو دورانِ سال ( پہلے سے موجود مالِ نصاب کے ) ہم جنس مال مل گیا ، تو اس کو ( پہلے سے موجود) مالِ زکوٰۃ کے ساتھ ملائے گا اور اس کی زکوٰۃ ادا کرے گا ( دورانِ سال ) وہ زیادتی پہلے سے موجود مال سے حاصل ہو یا کسی اور طریقے مثلا : وراثت ، گفٹ یا کسی اور طریقے سے ( حاصل ہو ) اور اگر سال پورا ہونے کے بعد حاصل ہو ، تو پھر پہلے نصاب کے ساتھ نہیں ملایا جائے گا ، بلکہ بالاتفاق نیا سال شروع ہوگا ۔( فتاویٰ عالمگیری ، کتاب الزکوٰۃ ، الباب الاول ، جلد 1 ، صفحہ 175 ، مطبوعہ کوئٹہ )”
علامہ کاسانی رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
ولو ملك عروضا بغير عقد أصلا بأن ورثها ونوى التجارة لم تكن للتجارة؛ لأن النية تجردت عن العمل أصلا فضلا عن عمل التجارة؛ لأن الموروث يدخل في ملكه من غير صنعه.ولو ملكها بعقد ليس مبادلة أصلا كالهبة والوصية والصدقة أو بعقد هو مبادلة مال بغير مال كالمهر، وبدل الخلع، والصلح عن دم العمد، وبدل العتق ونوى التجارة يكون للتجارة عند أبي يوسف، وعند محمد لا يكون للتجارة، كذا ذكر الكرخي، وذكر القاضي الشهيد الاختلاف على القلب فقال في قول أبي حنيفة وأبي يوسف: لا يكون للتجارة، وفي قول محمد: يكون للتجارة.وجه قول من قال: إنه لا يكون للتجارة أن النية لم تقارن عملا هو تجارة وهي مبادلة المال بالمال فكان الحاصل مجرد النية فلا تعتبر.ووجه القول الآخر أن التجارة عقد اكتساب المال وما لا يدخل في ملكه إلا بقبوله فهو حاصل بكسبه فكانت نيته مقارنة لفعله فأشبه قرانها بالشراء والإجارة.والقول الأول أصح؛ لأن التجارة سب المال ببدل ما هو مال، والقبول اكتساب المال بغير بدل أصلا فلم تكن من باب التجارة فلم تكن النية مقارنة عمل التجارة. بدائع الصنائع (2/ 12)
اسی طرح علامہ ابن نجیم رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
وخرج ما ملكه بعقد ليس فيه مبادلة أصلا كالهبة والوصية والصدقة أو ملكه بعقد هو مبادلة مال بغير مال كالمهر، وبدل الخلع والصلح عن دم العمد وبدل العتق فإنه لا تصح فيه نية التجارة، وهو الأصح؛ لأن التجارة كسب المال ببدل هو مال، والقبول هنا اكتساب المال بغير بدل أصلا فلم يكن من باب التجارة فلم تكن النية مقارنة لعمل التجارة كذا صححه في البدائع۔ البحر الرائق (2/ 225)
نیز فتاویٰ ہندیہ کی عبارات ملاحظہ ہوں:
والفعلي ما سواهما ويكون الاستنماء فيه بنية التجارة أو الإسامة، ونية التجارة والإسامة لا تعتبر ما لم تتصل بفعل التجارة أو الإسامة۔۔۔ ومشايخ بلخ كانوا يصححون رواية الجامع وما ملكه بعقد ليس فيه مبادلة أصلا كالهبة والوصية والصدقة أو ملكه بعقد هو مبادلة مال بغير مال كالمهر وبدل الخلع والصلح عن دم العمد، وبدل العتق فإنه لا يصح فيه نية التجارة، وهو الأصح كذا في البحر الرائق، ولو ورثه فنواه للتجارة لا يكون لها كذا في التبيين. (1/ 174)
مذکورہ بالا عبارات سے معلوم ہوا کہ موہوب لہ (جس کو ہبہ کیا گیا ہے )کا ہبہ میں ملنے والی چیز میں تجارت کی نیت کرنا اس مال کے مالِ تجارت بننے کے لیے کافی نہیں ہے ۔بلکہ وہی “مال “تجارت کا مال شمار ہوگا جس کو فروخت کرنے کی نیت سے خریدا گیاہو اور ابھی تک فروخت کرنے کی نیت باقی ہو ۔البتہ یہ بات واضح رہے کہ ہمارے دارالافتاء کااصول نہیں کہ وہ کسی دوسرے دارالافتاء کے فتویٰ کی تصویب و تردید کرے ،البتہ فقہی جزئیات کو سامنے رکھتے ہوئے جو بات ہماری رائے کے مطابق درست ہے اس کو بیان کر دیا گیا ہے۔واللہ اعلم
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس