بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

خود رو گھاس پر عشرواجب ہونے سے متعلق تفصیل

سوال

ہم خودرو گھاس کی حفاظت کے لیے کانٹے وغیر و اس سے نکال لیتے ہیں تو اس گھاس میں تو عشر ہے یا نہیں ؟

جواب

واضح ر ہے کہ ایسی خودرو گھاس جس کی آب پاشی دیکھ بھال اور حفاظت کے لیے کوئی مناسب انتظام و اہتمام نہ کیا گیا ہو وہ مملوکہ زمین میں ہو یا غیر مملوکہ زمین میں، شرعاًوہ مباح الاصل ہے اور اس میں شرکت عامہ ہوتی ہے ، یعنی ہر شخص اس گھاس کو استعمال کرنے کا حق رکھتا ہے ۔ ایسی گھاس پر عشر واجب نہیں ہے۔ اور ایسی گھاس جس کو اگانے کے لیے بیچ ڈالا جائے یا ایسی خود رو گھاس جس کو پانی دیا جائے یا اس کی دیکھ بھال و حفاظت کی جائے اور اس کی مقدار بڑھانے کے لیے کھاد گوبر وغیرہ کا استعمال کیا جائے اور اس کے اندر سے کانٹے ، پتے وغیرہ نکالے جائیں تو اس میں صرف محنت کرنے والوں کا حق ہو گا ۔ البتہ ایسی گھاس پر عشر واجب ہو گا یا نہیں، تو اس میں تفصیل ہے، اگر ایسی گھاس کو با قاعدہ کمائی اور کاروبار کا ذریعہ بنایا گیا ہو کہ اس سے فروخت کر کے نفع کمایا جاتا ہو تو اس پر عشر واجب ہو گاور نہ واجب نہ ہوگا نہ ہو گا۔ (دیکھئے فتح القدیر کی عبارت )
فتاوی قاضیخان (3/242) رشیدية:
ولا يجب العشر في التبن ولا في الحطب والحشيش والقلب والصنوبر والقصب الفارسي ولا في سعف النخل ولا في الطرفاء ولا في الدلب وشجر القطن والباذنجان.
الفتاوى الهندية (1204) العلمية:
فلا عشر في الحطب والحشيش والقصب والطرفاء والسعف ، لأن الأراضي لا تستنمي بهذه الأشياء بل تفسدها حتى لو استنمت بقوائم الخلاف والحشيش والقصب وغصون النخل أو فيها دلب أو صنوبر ونحوها ، وكان يقطعه ويبيعه يجب فيه العشر كذا في محيط السرخسي.
فتاوی تاتارخانية (3274) فاروقية:
في السغناني والوسمة والزعفران والورس ففيه العشر الا الحطب والقصب والحشيش والتين والسعف.
بدائع الصنائع (5/ 281)علمية:
وأما الكلأ الذي ينبت في أرض مملوكة فهو مباح غير مملوك إلا إذا قطعه صاحب الأرض وأخرج فيملكه، هذا جواب ظاهر الرواية عن أصحابنا رضي الله عنهم وقال بعض المتأخرين من مشايخنا – رحمهم الله -: أنه إذا سقاه وقام عليه ملكه والصحيح جواب ظاهر الرواية؛ لأن الأصل فيه هو الإباحة لقوله – عليه الصلاة والسلام – «الناس شركاء في ثلاث الماء والكلأ والنار والكلأ» اسم لحشيش ينبت من غير صنع العبد، والشركة العامة هي الإباحة إلا إذا قطعه وأحرزه لأنه استولى على مال مباح غير مملوك فيملكه كالماء المحرز في الأواني والظروف وسائر المباحات التي هي غير مملوكة لأحد.
المبسوط للسرخسي (23/ 158)رشيدية:
فأما ما أنبته صاحب الأرض بأن سقى أرضه، وكربها لنبت الحشيش فيها لدوابه فهو أحق بذلك، وليس لأحد أن ينتفع بشيء منه إلا برضاه؛ لأنه حصل بكسبه، والكسب للمكتسب.
فتح القدير للكمال(2/ 251) رشيدية:
حتى لو اتخذها مقصبة أو مشجرة أو منبتا للحشيش يجب فيها العشر، والمراد بالمذكور القصب الفارسي أما قصب السكر وقصب الذريرة ففيهما العشر
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس