اگر کوئی شخص راستے پر چل رہا ہو اور اس کے کپڑوں پر بارش کے چھینٹے لگیں تو وہ کتنی مقدار میں معاف ہیں،اور اگر گندا پانی مثلاً : گٹر وغیرہ کا پانی بھی ہو تو اس کا کیا حکم ہے ۔اس کے چھینٹے اگر کپڑوں پر لگ جائیں تو ان کا کیا حکم ہے ؟
بارش کے پانی کی چھینٹوں کا حکم
آپ کے سوال کے جواب میں عرض ہے کہ بارش یا سڑک پر جمع شدہ بارش کے پانی کی مختلف صورتیں ہو سکتی ہیں، اور ان کے احکامات مختلف ہیں ،اس لیے تفصیل سے ان کے احکام ذیل میں ملاحظہ فرمائیے:
نمبر۱۔بارش کا پانی راستوں پر جمع ہوجائے اور اس میں گٹر کے پانی یا دیگر نجاستوں کی آمیزش نہ ہو تو وہ پانی پاک ہے ،اگر اس کی چھینٹیں جسم یا کپڑوں پر لگ جائیں تو اس کو پا ک ہی سمجھا جائے گا اور نماز اور دیگر عبادات اس کے ساتھ درست ہو جائیں گی ۔
نمبر۲۔ اگر بارش کے پانی میں ناپاک پانی مل جائے اور دونوں مل کر اتنی مقدار میں بہہ پڑیں کہ جس سے ناپاکی کا اثر ختم ہو جائے یعنی نجاست کا رنگ، بو یا مزہ اس پانی میں نہ رہے جیسا کہ تیز بارش میں نشیبی راستوں میں ہوتا ہے تو یہ پانی ماء جاری کے حکم میں ہونے کی وجہ سے پا ک ہوگا ۔
نمبر۳۔بارش کے پانی میں گٹر کا پانی یا کوئی اور نجاست مل جائے اور وہ ایک جگہ جمع ہو بہہ نہ رہا ہو ، اس پانی کا پھیلاؤ پندرہ بائی پندرہ فٹ151×151( یعنی 225 مربع فٹ) سے زیادہ ہو اور اس پانی میں نجاست کا اثر (رنگ ،بو یا مزہ) غالب نہ ہو تو یہ پانی بھی پاک ہے ۔
نمبر۴۔ بارش کے پانی میں نجاست مل گئی ہو اور وہ جاری نہ ہو،ایک جگہ جمع ہو اور اس پانی کا پھیلاؤ پندرہ بائی پندرہ فٹ151×151( یعنی 225 مربع فٹ) سے کم ہوتو یہ پانی ناپاک ہے اگرچہ اس میں نجاست کا اثر(رنگ ، بواور ذائقہ) اس میں ظاہر نہ ہوا ہو ۔
نمبر۵۔اگر بارش کے پانی میں نجاست مل جائے او ر اس کا اثر (رنگ ،بو یا ذائقہ) اس پانی پر غالب آجائے تو وہ پانی ناپاک ہے اور اس کی چھینٹیں بھی ناپاک ہیں، اگرچہ وہ پانی جاری ہو یا جمع ہونے کی صورت میں اس کا پھیلاؤ پندرہ بائی پندرہ فٹ فٹ151×151(یعنی 225 مربع فٹ) سےزائد ہو ،اور ناپاک چھینٹوں کے ساتھ نماز پڑھنے کی تفصیل آخر میں مذکور ہے ۔
لہذا جن صورتوں میں پانی ناپاک ہےان کا حکم یہ ہے کہ اگر پانی کی چھینٹیں سوئی کے ناکے کے برابر چھوٹی ہوں تو وہ معاف ہیں، اسی طرح جسم یا کپڑوں کے مختلف حصوں پر چھینٹیں لگیں اور ان سب کا مجموعی پھیلاؤ ایک درہم کے برابر یا اس سے کم ہوتو ان کو دھونا بہتر ہے ، بغیر دھوئے بھی نماز پڑھ لی تو نماز ادا ہو جائے گی۔ البتہ چھینٹوں کا پھیلاؤ درہم کے برابر ہو نے کی صورت میں ان کو دھوئے بغیر نماز پڑھ لی تو نماز کراہت کے ساتھ ادا ہو گی ،اور اگر چھینٹیں ایک درہم سے زیادہ ہوں تو ان کو دھو کر نماز پڑھنا ضروری ہے بغیر دھوئے نماز درست نہیں ہوگی ۔ تاہم جہاں بارشیں زیادہ ہوتی ہوں اور کسی شخص کو بار بار ایسے راستے سے گزرنے کی حاجت ہو اور جسم و کپڑوں کو بچانا بہت مشکل ہو اور بار بار دھونے میں حرجِ شدید ہو تو ایسی صورت میں نجس پانی کے چھینٹے اس شخص کے حق میں معاف ہیں۔بشرطیکہ کپڑوں پر نجاست کا اثر بعینہ نظر نہ آئے ۔
رد المحتار (1/ 324)
(قوله: وطين شارع) مبتدأ خبره قوله: عفو والشارع الطريق ط. وفي الفيض: طين الشوارع عفو وإن ملأ الثوب للضرورة ولو مختلطا بالعذرات وتجوز الصلاة معه. اهـ. . وقدمنا أن هذا قاسه المشايخ على قول محمد آخرا بطهارة الروث والخثي، ومقتضاه أنه طاهر لكن لم يقبله الإمام الحلواني كما في الخلاصة. قال في الحلية: أي: لا يقبل كونه طاهرا وهو متجه، بل الأشبه المنع بالقدر الفاحش منه إلا لمن ابتلي به بحيث يجيء ويذهب في أيام الأوحال في بلادنا الشامية لعدم انفكاك طرقها من النجاسة غالبا مع عسر الاحتراز، بخلاف من لا يمر بها أصلا في هذه الحالة فلا يعفى في حقه حتى إن هذا لا يصلي في ثوب ذاك. اهـ.أقول: والعفو مقيد بما إذا لم يظهر فيه أثر النجاسة كما نقله في الفتح عن التجنيس
فتاوی التا تار خانیۃ(1/298)
سئل ا بو نصر عن ماء ا لثلج الذی یجری علی الطریق ،وفی الطریق سرقین ونجاسات یتبین فیہ أیتوضأ بہ ؟ قال : متی ذھب أثر النجاسۃ ولونھا جاز ۔
الفتاوى الهندية (1/ 47) بيروت
رجل أصابه طين أو مشى فيه ولم يغسل قدميه وصلى يجزيه ما لم يكن فيه أثر النجاسة إلا أن يحتاط
الدر المختار (1/ 185)
(وبتغير أحد أوصافه) من لون أو طعم أو ريح (ينجس) الكثير ولو جاريا إجماعا، أما القليل فينجس وإن لم يتغیر
الهداية(1/ 21)
والغدير العظيم الذي لا يتحرك أحد طرفيه بتحريك الطرف الآخر إذا وقعت نجاسة في أحد جانبيه جاز الوضوء من الجانب الآخر، لأن الظاهر أن النجاسة لا تصل إليه… جاز الوضوء من الجانب الآخر إشارة إلى أنه ينجس موضع الوقوع وعن أبي يوسف رحمه الله تعالى أنه لا ينجس إلا بظهور أثر النجاسة فيه كالماء الجاري
الدر المختار (1/ 192)
وحقق في البحر أنه المذهب، وبه يعمل، وأن التقدير بعشر في عشر لا يرجع إلى أصل يعتمد عليه، ورد ما أجاب به صدر الشريعة، لكن في النهر: وأنت خبير بأن اعتبار العشر أضبط ولا سيما في حق من لا رأي له من العوام، فلذا أفتى به المتأخرون الأعلام: أي في المربع بأربعين، وفي المدور بستة وثلاثين، وفي المثلث من كل جانب خمسة عشر وربعا وخمسا بذراع الكرباس، ولو له طول لا عرض لكنه يبلغ عشرا في عشر جاز تيسيراً
البحر الرائق (1/ 78و87)
“قوله: (أو بماء دائم فيه نجس إن لم يكن عشرا في عشر) أي: لا يتوضأ بماء ساكن وقعت فيه نجاسة مطلقا سواء تغير أحد أوصافه أو لا ولم يبلغ الماء عشرة أذرع في عشرة … (قوله: وإلا فهو كالجاري) أي: وإن يكن عشرا في عشر فهو كالجاري، فلا يتنجس إلا إذا تغير أحد أوصافه
رد المحتار (1/ 322)
والحاصل أن المائع متى أصابته نجاسة خفيفة أو غليظة وإن قلت تنجس ولا يعتبر فيه ربع ولا درهم، نعم تظهر الخفة فيما إذا أصاب هذا المائع ثوبا أو بدنا فيعتبر فيه الربع كما أفاده الرحمتي
الدر المختار(1/316،317)
(وعفا) الشارع (عن قدر درهم) وإن كره تحريما، فيجب غسله، وما دونه تنزيها فيسن، وفوقه مبطل (وهو مثقال)……(في) نجس (كثيف) له جرم (وعرض مقعر الكف) وهو داخل مفاصل أصابع اليد (في رقيق من مغلظة كعذرة) آدمي……(قوله: وعفا الشارع) فيه تغيير للفظ المتن؛ لأنه كان مبنيا للمجهول، لكنه قصد التنبيه على أن ذلك مروي لا محض قياس فقط. قال في شرح المنية: ولنا أن القليل عفو إجماعا، إذ الاستنجاء بالحجر كاف بالإجماع وهو لا يستأصل النجاسة، والتقدير بالدرهم مروي عن عمر وعلي وابن مسعود، وهو مما لا يعرف بالرأي فيحمل على السماع